قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 11
(3) '' مجھے دکھایا گیا ہے (کہ) یہ علاقہ اس قدر آباد ہوگا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائینگی۔( تذکرہ ایڈیشن ششم صفحہ 666) (4) ”ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی پڑے تک بازار نکل گئے۔اُونچی اونچی دو منزلی یا چومنر لی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دوکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں۔اور موٹے موٹے سیٹھ ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں اور اُن کے آگے اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسما قسم کی دُکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔یکے بگھیاں ٹمٹم ، فٹن ، پالکیاں، گھوڑے، شکر میں، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔( تذکرہ - ایڈیشن ششم صفحہ 343) جواہرات اور مقدس مقامات حضرت میاں محمد عبد اللہ صاحب سنوری صحابی نے قادیان آنے پر اپنی کیفیت کا اظہار کچھ اس طرح فرمایا: میں قادیان جب آتا ہوں۔یہاں وقتاً فوقتاً یکلخت مجھ پر بعض آیات قرآنی کے معافی کھولے جاتے ہیں اور میں اس طرح محسوس کرتا ہوں کہ گویا میرے دل پر معانی کی 11