قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 40 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 40

تھا۔پھر جب وہ مکان بنا جس میں بعد میں میاں شریف رہتے رہے ہیں اور جس میں آجکل اتم طاہر احمد رہتی ہیں تو چونکہ اس کا ایک حصہ گلی کی طرف سے نمایاں طور پر نظر آتا تھا اس لئے آپ نے اس کے اس حصہ پر بیت البرکات کے الفاظ لکھوا دیئے جس سے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ شاید یہ نام اسی حصہ کا ہے حالانکہ حضرت صاحب نے اپنے سارے مکان کا نام بیت البرکات رکھا ہوا تھا۔علاوہ ازیں حضرت صاحب نے اپنے مکان کے بعض حصوں کے مخصوص نام بھی رکھے ہوئے تھے مثلاً مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ کا نام بیت الفکر رکھا تھا بلکہ در اصل اس نام میں اس کے ساتھ والا دالان بھی شامل تھا۔اسی طرح نچلی منزل کے ایک کمرہ کا نام جو اس وقت ڈیوڑھی کے ساتھ ہے، بیت النور رکھا تھا اور تیسری منزل کے اس دالان کا نام جس میں ایک زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب رہتے رہے ہیں اور اس وقت اُتم وسیم احمد رہتی ہیں بیت السلام رکھا تھا۔۔۔جس چوبارہ میں اس وقت مائی کا کو رہتی ہے جو مرزا سلطان احمد صاحب والے مکان کے متصل ہے اور میرے موجودہ باورچی خانہ کے ساتھ ہے اس میں حضرت صاحب نے وہ لمبے روزے رکھے تھے جن کا حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے اور یہی وہ کمرہ ہے جس میں حضرت صاحب نے براہینِ احمدیہ تصنیف کی تھی۔“ (سیرۃ المہدی جلد دوم صفحه 150 روایت 1206 مطبوعہ قادیان سن 2008ء) مسجد اقصیٰ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب مرحوم نے مسجد تعمیر کرنے کی غرض سے دو بازاروں کے درمیان ایک اونچی اور با موقع جگہ سات صد 40