قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 34 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 34

تحریر فرمائی: ”ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ستر سال کے قریب عمر سے گزر چکے ہیں۔موت کا وقت مقر نہیں خدا جانے کس وقت آجاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے۔ادھر فلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 110-109) بیت الدعا میں دعا کرتے وقت اس فرض کو مضر در محوظ رکھنا چاہئے جو حضرت مسیح موعود نے اس کی تعمیر کے وقت بیان فرمائی تھی۔سب سے پہلے غلبہ اسلام اور احمدیت کے لئے درد دل اور الحاج سے دعائیں کرنی چاہئیں۔اور خاص طور پر یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ جتنی دعا ئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کمرہ میں کی تھیں ان کو قبول کرتے ہوئے اس کے ثمرات سے جماعت اور تمام جہان کے لوگوں کو نوازتا چلا جا۔حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو صحت و سلامتی والی درازی عمر اور جملہ مقاصد میں کامیابی عطا فرما۔ان دعاؤں کے بعد اپنی ذاتی اغراض کے لئے بھی دُعائیں کی جائیں۔34