قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 9
اُس روز یروشلم سے آب حیات جاری ہو گا جس کا آدھا بحر مشرق کی طرف بہے گا اور آدھا بحر مغرب کی طرف۔گرمی سردی میں جاری رہے گا اور خدا وند ساری دنیا کا بادشاہ ہوگا۔اسی روز ایک ہی خداوند ہو گا اور اس کا نام واحد ہو گا۔“ (زکریا140-8) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: یروشلم سے مراد در اصل دار الاماں ہے۔یروشلم کے معنی ہیں وہ سلامتی کو دیکھتا ہے۔یہ سنت اللہ ہے کہ وہ پیشگوئیوں میں اصل الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے مراد اس کا مفہوم اور مطلب ہوتا ہے۔ای طرح پر بیت المقدس یعنی مسجد اقصی ہے اس مسجد کا نام بھی اللہ تعالی نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے۔کیوں کہ اقصیٰ یا باعتبار بعد زمانہ کے ہوتا ہے اور یا بعد مکان کے لحاظ سے۔اور اس الہام میں الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات زمانی کولیا ہے۔“ ( ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام - جلد دوم صفحہ 451) ثابت ہوا کہ وہ نیا یروشلم قادیان ہے۔دیواروں پر نگہبان مقرر کئے جانے کی پیشگوئی لفظ ” دار الامان اور الہام انّي أحافظ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ “ (تذكره صفحه 379) کے ذریعہ پوری ہو گئی اور اسی نے یروشلم سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ روحانی آب حیات جاری ہوا۔جو ساری دنیا کو سیراب کر رہا ہے اور ہمیشہ کرتارہے گا۔9