پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 38 of 60

پیاری مخلوق — Page 38

۳۸ اور دیکھ کر جاننے لگا۔پھر آہستہ آہستہ اس نے اپنے آرام کے لئے بہتر طریق سوچے : یہ تو آپ نے سستا ہوگا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔جب اس کو بارش اور دھوپ سے بچنے کی ضرورت پڑی تو پہلے وہ غاروں میں رہا۔پھر پتھر کے گھر بنائے۔کھانے کے لئے جانوروں کا پتھر سے شکار کیا کرتا۔اس دور کے انسانوں کو پتھر کے دور کا انسان کہتے ہیں۔یوں تو وہ جانوروں کی طرح ہی رہتا تھا۔اس کے جسم پر اسی طرح بال بھی تھے۔وہ کچا گوشت کی چیزیں اور اپنے وغیرہ کھاتا تھا۔کیونکہ ابھی وہ آگ سے واقف نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں جو ترقی کا مادہ رکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے پھر سے ہتھیار بنائے۔پھر آگ سے کام لینا سیکھا۔اس کو کھانا پکانے۔سردی سے بچنے۔روشنی کر نے میں استعمال کیا۔جب کانسی کا دور آیا تو اس دھات سے ہتھیار بننے لگے۔اور پھر ترقی کر تے ہوئے تانبہ اور پھر لوہے کے دور میں انسان داخل ہو گیا۔وہ اپنی حفاظت۔غذا کی فکر کے ساتھ آرام و آسائیش پر بھی توجہ دیتا رہا۔اس نے غاروں سے نکل کر زمین پر گھر بنائے۔فصلیں اگائیں۔پھل لگائے۔پھولوں سے اپنے آپ کو اور گھروں کو سجایا۔لباس نے ترقی کی۔بتیوں سے چھال اور پھر کپڑا تیار ہونے لگا۔مٹی کے برتنوں کے بعد دھات کے۔پھر شیشے کے برتن بنے۔کچھ چیزیں تو اس نے سوچ سمجھ کر بنائیں۔مثلاً پہیہ جس سے ترقی کی رفتار بہت تیز