پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 29 of 60

پیاری مخلوق — Page 29

۲۹ آپ کے اردگرد چیل کو سے بھی موجود ہیں۔کو سے اتفاق سے رہنا سکھاتے ہیں۔اگر آپ چڑیا گھر جائیں تو پرندوں کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ حیران ہو جائیں گے کہ خدا تعالیٰ نے اتنے رنگ ان کے پروں میں کیسے بھر دئے۔انسان نے اس پر کو قلم کے طور پر استعمال کیا۔کتاب میں بک مارک رکھا۔ان پروں کے لحاف اور کیسے۔گرمی و نرمی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔پھر ان پیروں سے انسان اپنے آپ کو سجاتا رہا۔سر پر۔کوٹ کے کالہ پر یہیٹ پر۔ان سے بنائی ہوئی خوبصورت لمبی کمر پر سے گزرتی ہوئی ٹوپی ریڈ انڈین اپنے سردار کو پہناتے ہیں۔پروں سے لباس بھی بنے۔آج بھی افریقیہ میں پیروں کے تاج استعمال ہوتے ہیں۔ان کی آوازیں خصوصیت سے آپ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔خوب صورت سریلی آوازیں۔یہ کوئل ، مینا اور تیتر کی ہیں۔طوطے چیخ چیخ کر بلاتے ہیں۔ان کو آپ انسانوں کی طرح بولنا سکھا سکتے ہیں۔جن پرندوں کا گوشت آپ کو پسند ہے۔ان میں مرغی۔بطخ - کبوتہ - تیتر بٹیر اور مرغابی ہیں۔ویسے تو ساری اور بگلا بھی کھایا جاتا ہے۔مرغیوں اور بطخوں کے علاوہ آبی برند سے بھی کھائے جاتے ہیں۔پرندوں کو اڑتا دیکھ کر انسان میں بھی انوکھی تمنا ابھری کہ وہ بھی ہوا میں اُڑے اور اس دنیا کو بلندی سے دیکھے اس طرح جہانہ بن گیا۔لیکن ہوا میں پہنچے کہ زیادہ دور جانے کی کوشش نے راکٹ بنوائے۔سیاروں ستاروں کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کی تڑپ نے انسان کو فضا میں پہنچا دیا۔