پیاری مخلوق — Page 33
۳۳ ہیں۔صرف اپنے بارے میں جاننے کی کوشش ہے کہ ہم کیا ہیں۔اور ہم کو کیوں پیدا کیا گیا۔تب یہ مرا نہ کھلتا ہے کہ انسان دودھ پلانے والے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ یہ دو پیروں پر کھڑا ہونا سیکھ گیا ہے۔اور چونکہ بولتا ہے تو حیوان ناطق ہوا۔یعنی بولنے والا حیوان۔ایک اور سمجھدار حق نے ایک اور حیران کن رانہ سے پردہ اٹھایا۔فرماتے ہیں :- کہ سب جاندار ابتداء میں یک خلوی تھے۔پھر ترقی کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اس شکل اور حالت میں آئے ہیں۔ہمارے آباء و اجداد بندر کی ایک نسل سے تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انسان کو تو زمین یہ آباد ہوئے ہزاروں سال ہو گئے ہیں۔اس عرصہ میں کوئی بندر کیوں انسان نہ بنا تو جواب ملا کہ اب یہ نسل معدوم ہو چکی ہے یعنی ختم ہو گئی۔کیونکہ درمیانی واسطہ نہیں اس لئے سلسلہ ٹرک گیا۔اس روح فرسا خبر ملکہ ظالمانہ تحقیق نے رونگٹے کھڑے کر دئے۔اور جب ہم نے اپنے یقین کی خاطر ارتقاء کا چارٹ دیکھا تو سچ مچ بندر سے اور پر انسان کو مخلوقات کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل میں لٹکتے پایا۔آخر ایک چیز نے ہمت بندھائی کہ جنسی تم کو بنا یا تخلیق کیا۔اس کے دربار میں چلو۔اس سے پوچھو کہ اسے مصوّر انسانیت ! تو بتا کہ ہمیں کیا بنایا ہے۔اور ہمارا تعلق کس سے ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ جاؤ قرآن پاک کو کھولو۔جو ہدایت