آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 35
وہ قوموں کے لئے دور سے ایک جھنڈا کھڑا کرتا ہے اور انہیں زمین کی اشیاء سے سیٹی بجا کے بلاتا ہے اور دیکھ وے دوڑ کے جلد آتے ہیں۔کوئی ان میں نہ تھک جاتا اور نہ پھسل پڑتا ہے۔وے نہیں اونگھتے اور نہیں سوتے۔ان کا کمر بند کھلتا نہیں ہے اور نہ ان کی جوتیوں کا تسمہ ٹوٹتا ہے۔ان کے تیر تیز ہیں اور ان کی ساری کمانیں کشیدہ ہیں۔ان کے گھوڑوں کے سم چقماق کے پتھر کی مانند ٹھہرتے اور ان کے پہیے گرد باد کی مانند۔وے شیرنی کی مانند گر جتے ہیں۔ہاں وے جو ان شیروں کی مانند گر جتے ہیں وے غراتے اور شکار پکڑتے اور اسے بے روک ٹوک لے جاتے ہیں اور کوئی بچانے والا نہیں اور اس دن ان پر ایسا شور مچائیں گے جیسا سمندر کا شور ہوتا ہے اور یہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اس کی بدیوں سے تاریک ہو جاتی ہے۔“ ( آیت ۲۶ تا ۳۰) اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک زمانہ میں تمام قوموں کے لئے فلسطین سے دور کسی جگہ پر ایک جھنڈا کھڑا کرے گا اور اس جھنڈے والا دنیا کی مختلف قوموں کو بلائے گا اور وہ جلدی سے دوڑ کر اس کے پاس جمع ہو جائیں گی۔وہ لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے ہوں گے اور غفلت اور ستی سے محفوظ ہوں گے۔انہیں لڑائیاں کرنی پڑیں گی۔ان کے گھوڑوں کے سموں سے آگ نکلے گی اور جب وہ حملہ کرنے کے لئے چلیں گے تو ہوا میں گر داڑے گی۔وہ اپنے شکار پر غالب آجائیں گے اور ان کے شکار کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔وہ ایسا کیوں کریں گے؟ اس لئے کہ وہ دیکھیں گے کہ زمین میں تاریکی اور 35