آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 21
میں بستی تھی۔چوتھا بیٹا بسام تھا اس کا ثبوت عام جغرافیوں میں کہیں نہیں ملتا لیکن بالکل ممکن ہے کہ یہ نام بگڑ گیا ہو اور کسی اور شکل میں پایا جاتا ہو۔پانچواں بیٹا مشماع تھا۔عرب میں اب تک بنو مسماع پائے جاتے ہیں۔چھٹا بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا دومہ تھا اور دومہ کا مقام اب تک عرب میں پایا جاتا ہے جس کا ذکر عرب جغرافیہ نویس ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں کہ دومہ اسمعیل کا بیٹا تھا جس کے نام پر یہ نام پڑا۔چنانچہ عرب میں ایک مشہور مقام ہے۔ساتواں بیٹا مسا تھا۔اس کے نام پر بھی ایک قوم یمن میں پائی جاتی ہے اور اس کی جائے رہائش کے کھنڈرات وہاں موجود ہیں۔ریورنڈ کا تری بی کاری نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر کیا ہے۔آٹھواں بیٹا حددتھا اس کے نام پر یمن کا مشہور شہر حدیدہ بنا ہوا ہے۔نواں بیٹا نیا تھا۔مسجد سے حجاز تک کا علاقہ تیا کہلاتا ہے اور یہاں یہ قوم بستی ہے بلکہ خلیج فارس تک پھیل گئی ہے۔دسواں بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا بطور تھا۔انکا مقام بھی عرب میں معلوم ہوتا ہے اور جدور کے نام سے مشہور ہے۔جو بطور کا بگڑا ہوا ہے یا، عام طور پرج سے بدل جاتی ہے اور ط اورت د سے بدل جاتی ہے پس جدور اصل میں یطو رہی ہے۔گیارھواں بیٹا نیس تھا۔اور مسٹر فاسٹر کا بیان ہے۔جوزیفس اور تورات کی سند کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی بیابان عرب میں رہتی تھی۔بارھواں بیٹا قدمہ تھا۔ان کی جائے رہائش بھی یمن میں ثابت ہے۔مشہور جغرافیہ نویس مسعودی لکھتا ہے کہ مشہور قبیلہ اصحاب الرس جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی آتا ہے 21