آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 26
مجھ سے ڈر جاتا ہے۔پھر لکھا ہے۔” قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اس کے آگے دھنس گئیں۔66 یہ پیشگوئی بھی رسول کریم سان الہیم کے ذریعہ ہی ثابت ہوئی، کیونکہ آپ کے دشمن آپ کے مقابلہ میں ہلاک و تباہ ہو گئے اور پہاڑ اور پہاڑیوں سے مرادطاقتور دشمن ہی ہوا کرتے ہیں۔پھر لکھا ہے۔”میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بیت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔“ اس پیشگوئی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آنے والا موعود شام سے کسی باہر کے علاقے کا ہوگا۔اور جب اس کی فوجیں کیش یا کوشان اور مدائن کے علاقوں کی طرف بڑھیں گی تو ان علاقوں کی فوجیں اس کی فوجوں کے آگے لرز جائیں گی۔اس پیشگوئی کے موعود بھی موسیٰ علیہ السلام نہیں ہو سکتے نہ مسیح علیہ السلام ہو سکتے ہیں یہ پیشگوئی بھی محمد لا لا یہ تم پر ہی صادق آتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کی مٹھی بھر فوج آپ کے خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے زمانہ میں فلسطین کی طرف بڑھی تو باوجود اس کے کہ کنعان اس وقت قیصر روما کے ماتحت تھا اور وہ آدھی دنیا کا بادشاہ تھا۔مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے آگے قیصر کی فوجیں اس طرح بھا گئیں کہ کیش کے خیموں پر آفت آگئی اور زمین مدیان کے پردے کانپ گئے اور ان علاقوں نے اپنی نجات اس بات میں پائی کہ محمد رسول اللہ ایسی ای ایم کے خادموں کے قدموں میں اپنے ہتھیار ڈال دیں۔26