آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 11
ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام پر یہ پیشگوئی تو پوری نہیں ہوئی اور جب حضرت مسیح پر یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والے ایک ایسے نبی کی پیشگوئی عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں موجود تھی جو ساری سچائیوں کو ظاہر کرے گا اور دنیا میں خدا تعالیٰ کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم کرے گا۔ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہے۔چنانچہ (۱) محمد رسول اللہ صلی ایتم ہی وہ شخص تھے جو بنو اسمعیل میں پیدا ہوئے جو بنو اسحاق کے بھائی تھے۔(۲) رسول کریم سال یا ستم ہی وہ شخص تھے جنہوں نے موسیٰ کے مانند ہونے کا دعویٰ کیا چنانچہ قرآن میں آتا ہے۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولاً ( المزمل : ۱۶) ہم نے تمہاری طرف تم میں سے ایک رسول بھیجا جس طرح فرعون کی طرف ہم نے رسول بھیجا تھا۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موسیٰ کی طرح نبی ہیں۔(۳) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا موعود نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا نہ کہ کوئی اور دعوئی اور رسول کریم صلی یا تم نے نبی ہونے کا دعوی کیا تھا مگر اس کے برخلاف کہا جاتا ہے کہ مسیح نے نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔چنانچہ انجیل مرقس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں کہ میں کون ہوں۔انہوں نے کہا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اور بعضے الیاس اور بعضے نبیوں میں سے ایک۔پھر اس نے انہیں کہا کہ تم کیا کہتے ہو کہ میں کون ہوں۔پطرس نے جواب میں اس سے کہا تو تو مسیح ہے۔تب اس نے انہیں تاکید کی کہ میری بابت کسی سے یہ مت کہو۔(مرقس باب ۸ آیت ۲۷ تا ۳۰) 66 11