آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 6

نے کس طرح گوارا کی۔اگر یہ تبدیلی چند سال کے لئے عارضی طور پر ہوتی تو کوئی بات نہ تھی کیونکہ قومی زندگیوں میں اتار چڑھاؤ ہوہی جایا کرتے ہیں لیکن یہ تبد یلی تو اتنی لمبی چلی کہ آج تیرہ سو سال کے بعد بھی فلسطین کے اکثر حصہ پر مسلمان اور اسمعیل کی اولاد قابض ہیں۔یورپ اور امریکہ زور لگارہے ہیں کہ کسی طرح ان حالات کو بدل دیں لیکن اب تک وہ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر کوئی کامیابی ان کو حاصل بھی ہوئی تو وہ عارضی ہوگی۔یا بنواسرائیل مسلمان ہو کر نئے عہد کے ذریعہ سے ایک نئی زندگی فلسطین میں پائیں گے اور یا پھر وہ دوبارہ فلسطین میں سے نکال دیئے جائیں گے۔کیونکہ فلسطین ان لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو ابراہیمی عہد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔مسیحی لوگ بھی اپنے آپکو ابراہیمی عہد کا پورا کرنے والا قرار دیتے ہیں لیکن تعجب ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس عہد کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ قوم ختنہ کروائے گی لیکن عیسائی تو ختنہ سے آزاد ہوچکے ہیں۔ہاں بنو اسمعیل جو تیرہ سو سال سے فلسطین پر قابض ہیں وہ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی ختنہ کرواتے تھے اور اب بھی ختنہ کرواتے ہیں۔غرض جیسا کہ ان پیشگوئیوں میں بتایا گیا تھا کہ اسمعیل اور اسحاق دونوں کو برکت دی جائے گی وہ پیشگوئیاں پوری ہونی ضروری تھیں۔بنو اسحاق کو ان کے وعدہ کے مطابق کنعان کی حکومت دی گئی اور بنو اسمعیل کو ان کے وعدہ کے مطابق عرب کی حکومت دی گئی۔آخر جب بنو اسحاق کی قیامت آگئی تو داؤد کی پیشگوئی کے مطابق نسلی لحاظ سے نہیں بلکہ راستباز ہونے کے لحاظ سے کنعان پر غلبہ بنو اسمعیل کو دے دیا گیا۔گویانسلی وعدہ ابراہیم کے مطابق مسلمانوں کو مکہ اور اس کے اردگرد کا علاقہ ملا۔جس کا دعویٰ قرآن کریم نے سورہ البقرہ رکوع ۱۵ / ۱۵ میں کیا ہے۔اور راستباز ہونے کے لحاظ سے بنو اسحاق کی مذہبی تباہی کے بعد وہ کنعان کے بھی وارث قرار پائے۔☆☆ 6