آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 74

میں قائم کیا جائے۔کلیسیا تو بہر حال اس کا مستحق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اس نے تو شریعت کو لعنت قرار دے کر نیکی کا وجود ہی مشتبہ کر دیا ہے۔یہ جو کہا گیا تھا کہ وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔اس کی تشریح میں استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی کے ماتحت کر آیا ہوں۔آئندہ کی خبروں کے متعلق جو کہا گیا ہے۔اس کے متعلق بھی صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جتنی آئندہ کی خبریں محمد رسول اللہ صلی شاہ سلیم نے دی ہیں اور کسی نبی نے نہیں دیں۔اس کے متعلق کچھ روشنی دیباچہ میں آگے چل کر ڈالی جائے گی۔یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں اور یہ جو کہا گیا تھا کہ اس کا کلام سارے کا سارا کلام اللہ ہو گا۔یہ بھی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کا اور کوئی مصداق نہیں ہوسکتا۔عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کوئی بھی تو کتاب نہیں جو انسانی کلام سے خالی ہو ،لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں شروع سے لے کر آخر تک وہی بیان کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اوروں کا تو ذکر کیا خود محمد رسول اللہ این ایام کا اپنا بھی ایک لفظ اس کتاب میں نہیں۔آخر میں یہ جو کہا گیا تھا کہ وہ میری بزرگی کرے گی سو یہ بزرگی کرنے والے نبی محمد رسول اللہ صلی ایتم ہی ہیں۔آپ ہی ہیں جنہوں نے مسیح کو اس الزام سے بچایا کہ مسیح صلیبی موت سے مرکز نعوذ باللہ عنتی ہوا۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو اس الزام سے بچایا کہ نعوذ باللہ خدائی کا دعویٰ کر کے وہ خدا تعالیٰ سے بے وفائی اور غداری کرتے تھے۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو یہودیوں کے اعتراضات سے نجات دلائی۔پس اس پیشگوئی کا مصداق آپ کے سوا کوئی نہیں۔( ز ) کتاب اعمال میں لکھا ہے ” ضرور ہے کہ آسمان اسے ( یعنی مسیح کو ) لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع 74