آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 36
ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور لوگ ایک عظیم الشان انقلاب کے محتاج ہیں۔یہ پیشگوئی کلی طور پر رسول کریم مالی یہ تم پر نہ صرف چسپاں ہوتی ہے بلکہ قرآن کریم میں اس کا ذکر بھی موجود ہے۔رسول کریم مایا یہ تم اس پیشگوئی کے مطابق فلسطین سے دور یعنی مکہ میں ظاہر ہوئے اور آپ کا جھنڈا مدینہ میں کھڑا کیا گیا۔آپ ہی تھے جنہوں نے قرآنی الفاظ میں یہ اعلان کیا يَأْيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جميعًا (الاعراف : ۱۵۹) اے انسانو! میں تمام لوگوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔آپ ہی کی آواز پر چاروں طرف سے لوگ دوڑ نے لگ گئے اور جلد جلد آپ کے گرد جمع ہو گئے۔مسیح کی زندگی میں تو ایک شخص بھی غیر قوموں میں سے اس پر ایمان نہیں لایا تھا۔اس کے سارے کے سارے حواری چالیس پچاس میل کے حلقہ کے اندر رہنے والے تھے مگر رسول کریم صلی ایتم کی آواز پر یمن کے رہنے والے اور مجد کے رہنے والے یہودیوں میں سے بھی اور ایرانیوں میں سے بھی اور عیسائیوں میں سے بھی ایمان لائے اور آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اس پیشگوئی کے مطابق انہوں نے ایسی قربانیاں اور ان تھک کوششیں کیں کہ دشمن سے دشمن بھی ان کی قربانیوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں ان کی نسبت فرمایا ہے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبة: ۱۰۰) انہوں نے ایسی قربانیاں کیں کہ خدا ان سے راضی ہو گیا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے اور پھر قرآن کریم میں ان کا یوں ذکر بھی آتا ہے کہ مِنْهُم مَّنْ قَطَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب : (۲۴) کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنے عہد پورے کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو اپنے عہد کے پورا کرنے کے انتظار میں ہیں۔پھر ان کو جنگیں بھی پیش آئیں اور تیروں اور کمانوں سے انہوں نے کام لیا۔ان کے گھوڑے چقماق 36