آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 22

حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا اور وہ دو قبیلے تھے ایک کا نام قدمان تھا اور ایک کا نام یا مین تھا۔بعض جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ دوسرے قبیلے کا نام یا مین نہیں بلکہ رعویل تھا۔ان جغرافیائی اور تاریخی شواہد سے صاف ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی تمام اولا د عرب میں بستی تھی۔یہ تمام اولا د چونکہ خانہ کعبہ اور مکہ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتی چلی آئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام مکہ میں ہی آکر بسے تھے اور اس وجہ سے یہی علاقہ عربوں اور تورات کے بیان کے مطابق فاران کا علاقہ ہے۔یسعیاہ نبی کی پیشگوئی عرب کے متعلق : یسعیاہ نبی کے الہامی کلام کی شہادت بھی اس بات کی تائید میں ہے کہ بنو اسمعیل عرب میں رہے۔چنانچہ یسعیاہ باب ۲۱ میں لکھا ہے:۔دو عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کر پیا سے کا استقبال کرنے آؤ۔اسے تیا کی سرزمین کے باشند و! روٹی لے کر بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا ( آیت ۱۳ تا ۱۷) اس پیشگوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ایک سال بعد جو جنگ بدر ہوئی تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔اس میں بنو قیدار یعنی مکہ اور مکہ کے اردگر درہنے والے لوگ 22