آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 12
اس آیت میں مسیح نے اپنے متعلق یوحنا یا الیاس یا نبیوں میں سے کوئی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔لیکن موسیٰ کی پیشگوئی بتاتی ہے کہ وہ جو موسیٰ کے نقش قدم پر آنے والا ہے نبی ہوگا۔پس یقینا یہ پیشگوئی رسول کریم صلی یا تم پر چسپاں ہوتی ہے نہ کہ مسیح پر؟ (۴) اس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔لیکن ساری انجیلوں میں ہمیں خدا کا کلام کہیں نظر نہیں آتا۔اس کے برخلاف محمد رسول اللہ صلی تم نے قرآن کریم کو پیش کیا۔جو شروع سے لے کر آخر تک خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا نام بھی قرآن کریم میں کلام اللہ رکھا گیا ہے۔(البقرہ:۷۶) (۵) اس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور اوپر بتایا جاچکا ہے کہ مسیح نے خود اقرار کیا ہے کہ جو کچھ اسے کہا گیا تھا وہ سب کا سب لوگوں کو نہیں سناتا تھا لیکن اس نے یہ پیشگوئی ضرور کی تھی کہ میرے بعد ایک ایسا شخص آئے گا جو سب سچائی کی راہیں لوگوں کو بتائے گا۔چنانچہ محمد رسول اللہ سال میں ہی ہم نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سارا کلام لوگوں کو پہنچاتے ہیں اور کوئی بات جس کی دین کے لئے ضرورت ہے انہوں نے چھوڑی نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی سلیم کی نسبت فرماتا ہے يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ المائده :۶۸) اے محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم تیرے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ جب تو دنیا میں آئے گا تو ساری سچائیاں دنیا کو سنائے گا۔اس لئے دنیا خواہ بُرا منائے یا اچھا تو کسی کی پرواہ نہ کر اور جو وحی تجھے کی جاتی ہے وہ ساری کی ساری لوگوں کو سنا دے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائده : ۴ ) میں نے آج اس کلام کے ذریعے سے 12