آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 10

مسیح کو بنی اسرائیل میں سے خارج کر دیا جائے تو پھر وہ داؤد کی نسل میں بھی نہیں رہ سکتے اور اس پیشگوئی سے انہیں جواب مل جاتا ہے۔(۳) اس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔لیکن انجیل میں تو خدا کا کلام ہمیں کہیں نظر ہی نہیں آتا۔یا تو اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے سوانح ہیں یا ان کے بعض لیکچر اور یا پھر حواریوں کی باتیں۔یا (۴) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ موعود ایک نبی ہوگا۔مگر مسیح کے متعلق تو مسیحی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا ہی نہیں تھا۔پس جب مسیح علیہ السلام نبی ہی نہ تھے تو وہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے والے کس طرح ہو سکتے ہیں۔(۵) اس پیشگوئی میں یہ کہا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر اپنا الہام لوگوں کو سنائے گا مگر انا جیل میں تو کوئی ایک فقرہ بھی ہمیں نہیں ملتا جس میں مسیح نے یہ کہا ہو کہ خدا نے مجھے یہ بات لوگوں کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔(1) اس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے:۔” جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ساری سچائی کی را ہیں اس کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوں گی۔لیکن مسیح خود کہتا ہے کہ وہ سچائیاں دنیا کو نہیں بتاتے۔وہ کہتے ہیں۔”میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں۔پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔“ 66 ( یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ ، ۱۳) 10