مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 897
897 ہندوستان کی آزادی کی راہ میں ایک روڑا ہے کانگرس کے اثر اور بڑھتی ہوئی طاقت کو زائل کرنے کے لیے حکومت انگریزی نے خود مسلم لیگ کو طاقت بخشی۔لیگی وزارتیں مسٹر جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ سب انگریز کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔چونکہ انگریز ہندوستان کو کچھ دینا نہیں چاہتا۔اس لیے مسٹر جناح نے ان کے اشارے پر مطالبہ پاکستان پیش کر دیا۔دراصل پاکستان حاصل کرنے کے لیے مسٹر جناح نے مطالبہ پاکستان پیش نہیں کیا یہ صرف ہندوستان کی غلامی کی زنجیروں کو اور مضبوط کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ مسٹر جناح اور گاندھی جی میں صلح ہو جائے۔“ ( احراری لیڈروں سے نمائندہ پر یس کا انٹرویو ملاپ جالندھر ۱۲ اگست ۱۹۴۴ء) احرار اس پاکستان کو پلیدستان سمجھتے ہیں۔“ تقریرد چوہدری افضل حق یکم دسمبر ۱۹۴۱ء صدارتی خطبہ ڈسٹرکٹ احرار کا نفرنس قصور۔منقول از خطبات احرار صفحه ۸۳ مطبوعه با راول۱۹۴۴ء مرتبه شورش کاشمیری) ،، 66 ۴۔قائد اعظم کو احرار نے کافر اعظم اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔“ حیات محمد علی جناح مؤلفہ رئیس احمد جعفری صفحه ۹۱ بمبئی ۱۹۴۶ ءاور مسٹر جناح کا اسلام صفحہ ۹ شائع کردہ جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام نیز هفت روزه چٹان لاہور مورخ ۵۰-۱۱-۶) ۵ صدر مجلس احرار نے قیام پاکستان سے پہلے کہا:۔د مسلم لیگ نے ہمیشہ آزادی کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ملک آزاد ہونے پر مسٹر جناح اور دوسرے لیگی لیڈروں پر مقدمہ چلایا جائے گا“ (روزنامہ جنگ کراچی۔استقلال نمبر ۶۴۹) ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کا نام نہادر ہنما ایک پارسی عورت کو حلقہ زوجیت میں لینے کے لیے حلفیہ اقرارنامہ کے ذریعہ مسلمان ہونے سے انکار کرتا ہے اور آج تک کلمہ توحید پڑھ کر 66 مسلمان نہیں ہوا۔لیکن پھر بھی مسلمانوں کا قائد اعظم۔“ (رسالہ مسٹر جناح کا اسلام صفحہ شائع کردہ جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام و ہفت روزہ چٹان لاہور ۶ نومبر ۱۹۵۰ء) ے۔ہم لیگ کو دام فرنگ سمجھ کر دور ہی رہنا چاہتے ہیں۔“ (خطبات احرار صفحه ۲۲ از چوہدری افضل حق ) پاکستان ایک خونخوار سانپ ہے جو ۱۹۴۰ء سے مسلمانوں کا خون چوس رہا ہے اور مسلم لیگ ہائی کمانڈ ایک سپیرا ہے۔( احراری اخبار آزاد کا اداریہ 9 نومبر ۴۹ء )