مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 885
885 گویا صرف در بار رسالت ہی سے نہیں بلکہ دربار خداوندی سے بھی شیعوں کی تکفیر کا فتویٰ بقول امام ربانی مجد دالف ثانی صادر ہو چکا ہے۔۴ دربار عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ سے:۔فتاوی عالمگیری میں ہے:۔الرَّافِضِيُّ إِذَا كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ وَيَلْعَنُهُمَا وَالْعَيَاذُ بِاللَّهِ فَهُوَ كَافِرٌ مَنْ اَنْكَرَ اِمَامَةَ أَبِي بَكْرِ الصِّدِيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ كَافِرٌ۔۔۔وَكَذَالِكَ مَنْ اَنْكَرَ خِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔۔هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ خَارِجُوْنَ عَنْ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَحْكَامُهُمْ أَحْكَامُ الْمُرْتَذِيْنَ كَذَا فِى الظَّهِيرِيَّةِ۔“ (فتاوی عالمگیری مرتبه بحکم شہنشاہ اورنگ زیب جلد ۲ صفحه ۲۶۴) یعنی رافضی جو کہ حضرت ابو بکر و عمر کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے وہ کافر ہے۔اور جو حضرت ابوبکر کی امامت سے انکار کرے وہ بھی کافر ہے اسی طرح جو حضرت عمر کی خلافت کا منکر ہو وہ بھی کافر ہے۔یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد ہیں ان پر مرتدوں کے احکام نافذ ہوتے ہیں ایسا ہی ظہیر یہ “ میں لکھا ہوا ہے۔“ نوٹ :۔حضرت اور نگ زیب عالمگیر کے زمانہ حکومت میں تمام اہل سنت والجماعت علماء نے متفقہ طور پر شیعوں کے کفر پر اجماع کر کے شیعوں کو مرتد اور کافر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور حکومت وقت سے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا۔مولوی کفایت حسین اور وہ دوسرے سادہ لوح شیعہ جو آج احراریوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ذرا تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں اور اور نگ زیب عالمگیر کے زمانہ کے علماء کے فتاویٰ اور حکومت کے دباؤ کے ماتحت شیعوں کی قابلِ رحم حالت کو اگر ایک دفعہ یاد کر کے ” آنچه بر خود پسندی بر دیگران نیز مپسند کے منقولہ کو پیش نظر رکھیں تو یقین ہے کہ ان کا ضمیر ان کو ضرور ملامت کرے۔بشرطیکہ ضمیر کی آواز بھی باقی ہو اور وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا (الشمس : ۱) کی کیفیت نہ طاری ہو چکی ہو۔خادم ۵۔قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی : ” جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ صحابہ آپس میں بغض اور دشمنی رکھتے تھے وہ شخص قرآن کا منکر ہے اور جو شخص ان (صحابہ) کے ساتھ بغض اور جنگی رکھتا ہے قرآن میں اس کو کافر کہا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ (اف:۳۰) (مَا لَا بُدَّ منه۔مترجم اردو شائع کردہ ملک دین محمد اینڈ سنز مطبوعہ دین محمدی الیکٹرک پریس لاہور صفحہ افصل نعت جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم )