مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 858
858 رحمۃ اللہ علیہا) کو چراغ کی ضرورت تھی۔چنانچہ رابعہ ( رحمتہ اللہ علیہا) نے اپنی انگلی پر پھونک ماری جس سے انگلی فوراً روشن ہوگئی اور صبح تک چراغ کا کام دیتی رہی۔اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟ تو میں کہوں گا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتا ہے اس کو اس کرامت سے ضرور حصہ ملے گا۔‘ (ایضاً) ط۔ایک دفعہ چند آدمی آپ ( حضرت رابعہ بصری ) کے پاس آئے۔دیکھا کہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ رہی ہیں۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس چھری نہیں ہے؟ فرمایا کہ جدائی کے خوف سے میں نے کبھی چھری نہیں رکھی۔(ایضا صفحہ ۶) ی۔”حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ عصر کی نماز کے بعد آپ (حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا) کی خدمت میں گیا۔آپ اس وقت کچھ کھانا پکانا چاہتی تھیں اور گوشت ہانڈی میں ڈال دیا تھا۔آپ کی توجہ گفتگو میں پڑگئی اور ہانڈی کا خیال نہ رہا۔(ایضاً صفحہ ۶۳) (۵)۔باتو والی روایت مندرجہ سیرۃ المہدی“ کے بارے میں مندرجہ بالا جوابات کے علاوہ مندرجہ ذیل باتیں بھی قابل توجہ ہیں:۔ا۔وہ ایک بوڑھی بیوہ تھی۔اور اس کے ارزل العمر تک پہنچ چلنے کا ثبوت خودروایت کا نفس مضمون ہے۔ب۔جسم کے مس کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ روایت کے اندر ہی سردی کے موسم اور رضائی کا ذکر موجود ہے کہ وہ رضائی کے اوپر سے دبارہی تھی۔ج۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اور دیگر گھر کے لوگ موجود تھے اور بانو مذکورہ کی سادگی پر ہنس رہے تھے۔مگر حدیث نمبر الف مندرجہ بالا دوبارہ مطالعہ فرمائیے۔سر کو سہلانے یا اس سے جوئیں نکالنے کے لیے سر کو چھونا بہر حال ضروری ہے۔(پاکٹ بک طذ اصفحہ ۸۵۳) ۲۴- عدم احترامِ رمضان کا الزام غیر احمدی:۔حضرت مرزا صاحب نے امرتسر میں رمضان کے ایام میں تقریر کرتے ہوئے چائے پی لی اور رمضان کا احترام نہ کیا۔