مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 797
797 کے معنی محض گرہن کے ہیں جیسا کہ واقعہ میں ہوا تھا۔شق القمر“ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مذہب "سرمه چشم آریه نیز چشمه معرفت حصہ دوم صفحه ۲۱ طبع اول پر صاف طور پر مذکور ہے کہ آنحضرت صلعم کی انگلی کے اشارے سے چاند کے دوٹکڑے ہو گئے۔نوٹ:۔بعض غیر احمدی قاضی اکمل صاحب کا یہ شعر محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں (اخبار پیغام مل لا ہور مورخ ۴ ۱ مارچ ۱۹۱۷ء) پیش کیا کرتے ہیں۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اس شعر کی نسبت تحریر فرمایا ہے کہ الفاظ نا پسندیدہ اور بے ادبی کے ہیں۔“ الفضل ۱۹ را گست ۱۹۳۴ء صفحه ۵ جلد ۲۲ نمبر (۲۲) اسی طرح ڈاکٹر شاہنواز صاحب کے ایک مضمون شائع شدہ ریویو آف ریلیجنز کا ایک فقرہ کہ حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔“ پیش کیا کرتے ہیں۔حالانکہ سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ڈاکٹر صاحب موصوف کے اس نتیجہ کو غلط قرار دیا ہے اور ان الفاظ کو نا مناسب اور قابل اعتراض قرار دیا ہے۔الفضل نمبر ۲۲ جلد ۲۲ مورخه ۱۹ / اگست ۱۹۳۴ صفحه ۵) ۵۹-صدحسین است در گریبانم الجواب:۔(1) اس شعر میں حضرت اقدس نے اپنی فضیلت یا اپنے مقام کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اپنی تکالیف کا ذکر فرمایا ہے جیسا کہ مصرع اول میں ہے:۔کر بلائے است سیر ہر آنم (۲) گر بیان" بمعنی ”جیب نہیں ہوا کرتا بلکہ گریبان کے نیچے تو انسان کا اپنا وجود خصوصاً دل زیادہ قریب ہوتا ہے۔پس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت میں کربلا کے میدان اور شہادت حسین کا خیال ذہنی اور حالی طور پر رکھتا ہوں۔گویا میرے دل میں سوحسین کے لئے جگہ ہے پس یہ اظہار محبت ہے۔(۳) حضرت اقدس نے اپنی اور اپنے معتقدین کی تکالیف اور کابل کے شہداء کے پیش نظر یہ فرمایا ہے۔(۴) گو اس شعر میں حضرت اقدس نے حضرت امام حسین پر اپنی فضیلت کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ