مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 752
752 بن ابی بن سلول کو ( جور نیس المنافقین تھا) اپنے چغہ مبارک میں دفن فرمایا۔پس تسلیم کرنا پڑے گا کہ جہاد کے معنی صرف تلوار ہی کے ساتھ لڑائی کے نہیں ہوتے بلکہ تبلیغ وتذکیر کے ذریعہ کفار اور منافقین کی باطنی و روحانی اصلاح کی کوشش کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔شرعی حکم کی تنسیخ اور فتوی میں فرق احراری معترضین اپنے جوش خطابت میں ہمیشہ یہ کہا کرتے ہیں کہ منسوخی جہاد مستقل کفر ہے۔گویا ان کے نزدیک اگر کوئی شخص حضرت مرزا صاحب کی طرح یہ فتوی دے کہ چونکہ آجکل دشمنان دین اسلام کے بالمقابل تلوار نہیں اٹھاتے اس لئے تعلیم اسلامی کے رو سے ان کے ساتھ تلوار کا جہاد جائز نہیں۔تو ایسا فتوی دینے والا فرضیت جہاد کا منکر ہونے کے باعث خارج از اسلام سمجھا جائے گا۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس طریق کو جاری کرنے کے نتیجہ میں کوئی مفتی بھی فتوی کفر سے بچ نہیں سکتا کیونکہ اگر اس طریق تکفیر کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ایسے شخص کو بھی جو ایک غیر صاحب نصاب شخص کے بارہ میں یہ فتویٰ دیتا ہے کہ اس پر زکوۃ فرض نہیں فرضیت زکوۃ کا منکر قرار دے کر خارج از اسلام تسلیم کرنا پڑے گا۔دور کیوں جائیں سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا شعر ہے:۔فمَا وَجَبَتْ عَلَيَّ زَكُوةُ مَالِ وَهَلْ تَجِبُ الزَّكُوةُ عَلَى الْجَوَادِ ترجمہ:۔مجھ پر مال کی زکوۃ واجب نہیں اور کیا سخی پر ز کوۃ واجب ہوتی ہے؟ ( ہر گز نہیں) ( کشف انجوب مصنفہ حضرت داتا گنج بخش مترجم اردوصفحه ۲۸۸ مطبوعہ فیروز اینڈ سنز ۲۰۰۳ء) پس کس قدر ظلم ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ جنہوں نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں تو جہاد بالسیف کا حکم موجود ہے لیکن میں ان آیات اور احادیث کو منسوخ کرتا ہوں بلکہ صرف اس قدر رفرمایا کہ قرآن مجید اور حدیث میں خدا اور رسول کا حکم یہ ہے کہ جب تک مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام کے خلاف تلوار نہ اٹھائی جائے ان کے ساتھ جہاد بالسیف کرنا جائز نہیں اور چونکہ موجودہ وقت میں مخالفین اسلام کی طرف سے تلوار نہیں اٹھائی جا رہی اس لئے اس وقت جہاد بالسیف کرنے کی از روئے قرآن و حدیث اجازت نہیں، احراری معترضین ان کے خلاف ”فرضیت جہاد کے انکار کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔