مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 611
611 بددعائیں کیں۔“ (رؤ داد مباحثہ لدھیانہ صفحہ ۶۷) پس مولوی ثناء اللہ کے مطالبہ کا مطلب صرف یہی ہے کہ انبیاء جب مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں تو پہلے اپنے مخالفوں کی منظوری لے لیتے ہیں۔یہاں پر حضرت نے ثناء اللہ کی بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔پس ثناء اللہ اس طریق کار کی مثال مانگتا تھا نہ کہ محض بددعا کی کیونکہ اس کے لئے منظوری کی ضرورت نہیں۔ثنائی عذرات ثناء اللہ کو عذر ہے کہ مباہلہ کے لئے شرط یہ تھی کہ حقیقۃ الوحی شائع ہونے اور ثناء اللہ کو بذریعہ رجسٹری بھیجنے کے بعد مباہلہ ہوگا۔اب حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی کے چھپنے سے قبل ہی اس کو کیوں شائع کر دیا؟ سواس کا جواب یہ ہے کہ ثناء اللہ نے اپنے اخبار اہلحدیث ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ء میں جب چیلنج مباہلہ دیا تو حضرت نے اس کو مہلت دینا ہی پسند فرمایا کہ باوجود اس قدر شوخیوں اور دلآزاریوں کے جو ثناء اللہ سے ہمیشہ ظہور میں آتی ہیں حضرت اقدس نے پھر بھی رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جب کہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے۔( بدر۴ را پریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۲) لیکن چونکہ ثناء اللہ نے ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ کے اہلحدیث میں پھر فرار اختیار کر لینا تھا (جس کا حوالہ اوپر ذکر ہو چکا ہے صفحہ ۴۸۲) اور خدا تعالیٰ کو اس کا علم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۵ را پریل ہی کو اس کے فرار کے شائع ہونے سے پہلے ہی دعا مباہلہ لکھنے کی ہدایت فرما دی، چنانچہ حضرت فرماتے ہیں: ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیا درکھی گئی ہے۔“ ( بدر ۲۵ / اپریل ۱۹۰۷، صفحہ ے کالم نمبر ) حضرت اقدس کا ثناء اللہ سے کوئی معاہدہ نہ تھا کہ حقیقۃ الوحی چھپنے تک مباہلہ نہ ہوگا۔یہ صرف حضور کا اپنا ارادہ تھا بوجہ رحم کے۔ثناء اللہ نے اس تجویز کی منظوری کا اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ معاہدہ کی صورت اختیار کر لیتا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت کے ارادہ کو ( بوجہ اس فرار کے جو ثناء اللہ کرنے والا تھا ) بدل دیا۔اس بات کا ثناء اللہ کے لئے کوئی فرق نہ تھا کہ مباہلہ حقیقۃ الوحی کے چھپنے سے پہلے ہو