مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 571
571 ہے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس شرط سے فائدہ اٹھائیں گے یا نہیں؟ اور اگر اٹھائیں گے تو کس حد تک؟ کیونکہ خد تعالیٰ تو عالم الغیب ہے اس کو تو معلوم تھا کہ احمد بیگ اور سلطان محمد تو بہ کی شرط سے فائدہ اٹھا ئیں گے یا نہیں؟ تو اس سوال کا جواب تُوبِی تُوبِی والے الہام کے ساتھ ہی اگلے الفاظ میں دیا ہے۔فرمایا:۔تُوبِى تُوُبِى فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِكِ وَالْمُصِيبَةُ نَازِلَةٌ عَلَيْكِ يَمُوتُ وَيَبْقَى منْهُ كَلاتٌ مُتَعَدَدَةٌ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۲۰ حاشیہ۔اشتہار ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء) یعنی اے عورت! تو بہ کر تو بہ کر ، تجھ پر اور تیری لڑکی کی لڑکی پر عذاب نازل ہونے والا ہے ان دونوں مردوں میں سے احمد بیگ اور سلطان محمد میں سے ) ایک مرد ہی مرے گا۔( یعنی وہ تو بہ نہیں کرے گا لیکن دوسرا تو بہ کر کے شرط سے فائدہ اٹھا لے گا اور نہیں مرے گا اور اس طرح سے عورت بیوہ نہ ہوگی نہ ہی نکاح ہوگا ) اور کتے بھونکتے رہ جائیں گے کہ کیوں نکاح نہیں ہوا۔یعنی بے وجہ اعتراض کرتے رہیں گے۔اس الہام میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ احمد بیگ اور سلطان محمد میں سے ایک شخص توبہ کی شرط سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کی موت ہوگی اور دوسرا شخص اس شرط سے فائدہ اٹھا کر بچ جائے گا۔يَمُوتُ واحد مضارع مذکر کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک مرد مرے گا۔“ خادم اب ہم مندرجہ بالا بحث میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ درحقیقت حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی ی تھی۔۱۔احمد بیگ ضرور اپنی لڑکی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دے گا۔(يَرُدُّهَا إِلَيْكَ) ۲۔نکاح کرنے کے بعد اگر تو بہ نہ کریں گے تو تین سال کے عرصہ میں احمد بیگ اور اس کا داماد مر جائیں گے اور اندریں صورت لڑکی بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء و ضمیمہ ریاض ہند امر تسر مارچ ۱۸۸۶ء) ۳۔تو بہ کی شرط سے دونوں میں سے ایک فائدہ نہیں اٹھائے گا اور مرجائے گا۔(يَمُوتُ) دوسرا شخص اس شرط سے فائدہ اٹھائے گا اور توبہ کر کے بچ جائے گا۔(يَمُوتُ) کیونکہ دونوں میں سے ایک نے مرنا ہے۔