مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 525
525 ۲۶۔کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا“ یہ مرزا صاحب کو اپنے متعلق الہام ہوا۔( البشری جلد ۲ صفحه ۱۲۱) جواب: تم دھوکہ سے کام لیتے ہو۔”البشری جس میں یہ الہام درج ہے۔اس کے آگے تشریح بھی موجود ہے:۔کمترین کا بیڑہ غرق ہو گیا۔یعنی کسی کے قول کے طرف اشارہ ہے یا شاید کمترین سے مراد کوئی شریر مخالف ہے۔“ (البشری جلد ۲ صفحه ۱۲۱) تم لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ تو پڑھتے ہومگر وَانْتُم سُگاری ہضم کر جاتے ہو۔کچھ تو لو گو خدا سے شرماؤ ۲۷۔میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا جواب: وَانْتُمْ سُگاری “ بھی پڑھو لکھا ہے :۔اس وحی کے بعد ایک ناپاک روح کی آواز آئی۔میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“ ( البشرى جلد ۲ صفحه ۹۵) گویا تمہارے جیسی ناپاک روح کے متعلق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں خدا تعالیٰ کے عذاب سے بے خبر ہے اور اسی حالت نیند میں ہی اپنے لئے سامان جہنم بہم پہنچا رہی ہے۔فَاعْتَبِرُوا۔حضرت اقدس علیہ السلام کا اپنے متعلق الہام ہے:۔خوش باش که عاقبت نکو خواهد بود (البشری جلد ۲ صفحه ۸۹) ۲۔اس الہام کو حضرت اقدس علیہ السلام نے اس زلزلہ کے متعلق قرار دیا ہے جو اس مئی ۱۹۳۵ء کو کوئٹہ میں موسم بہار کے آخری دن (الوصیت صفحه ۱۳ حاشیه روحانی خزائن جلد ۲۰) میں آیا۔جبکہ رات کو لوگ غفلت کی نیند سوتے تھے۔مگر بعض بدکاروں کی بداعمالیوں کے باعث زلزلہ بھیج کر ان کو ہلاک کر دیا اور ان میں سے ناپاک روحیں سوتے سوتے واصل جہنم ہوئیں (مرنے والوں میں سے کئی نیک بھی تھے جیسا کہ طوفان نوح میں غرق ہونے والوں میں شیر خوار بچے عورتیں اور جانور بھی شامل تھے ) چنانچہ