مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 471 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 471

471 مفتری علی اللہ ٹھہرتا ہے اور مفتری علی اللہ سے بڑھ کر اور کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔اور جو ظالم ہو اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ (الانعام:۲) کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔نیز اِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ) (النحل: ۱۱۷) کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور اپنے پاس سے جھوٹے الہامات بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس اگر احمد رسول فی الواقعہ اپنے دعوئی میں سچا نہیں تو اندر میں صورت اس کو اسلامی تعلیم کی رو سے نا کام ونامراد ہو جانا چاہیے مگر وہ اپنے تمام دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے اپنے تمام مقاصد میں کامیاب و کامران ہوگا اور اس کی کامیابی اور کامرانی قطعی طور پر ثابت کر دے گی کہ وہ اپنے دعوئی میں صادق ہے اور اسلامی تعلیم کی رو سے وہ حق پر اور اس کے مخالفین ناحق پر ہیں۔مگر باوجود اس واضح طریق فیصلہ کے پھر بھی اس کو اس کے مخالفین دعوت اسلام دیں گے اور کہیں گے کہ تو دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے۔پس آاور مسلمان ہو جا۔اس طرح وہ احمد رسول جو اسلامی تعلیم کی رو سے مفتری علی اللہ ثابت نہیں ہوا الٹا اسلام کی طرف دعوت دیا جائے گا۔پس پہلی نشانی جو اس احمد رسول کی بتائی گئی ہے وہ هُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَام کے الفاظ میں یہ ہے کہ وہ اسلام کی طرف دعوت دیا جائے گا۔اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں :۔ا۔وہ احمد رسول ایسے زمانہ میں آئے گا جبکہ دنیا میں اسلام کے علمبر دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگ پہلے سے موجود ہوں گے گویا وہ خود بانی اسلام نہیں ہوگا۔ب۔اس کے مخالفین اس پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے اور خود کو حقیقی مسلمان قرار دیں گے۔پس مندرجہ بالا علامات صاف طور پر بتا رہی ہیں کہ اس پیشگوئی کا حقیقی مصداق ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بلکہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام، احمد کے متعلق ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف اپنے آپ کو اسلام کے مدعی قرار نہیں دیتے تھے۔۲۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بانی اسلام ہیں۔آپ کے مخالفین نے اپنے آپ کو کبھی مسلمان قرار نہیں دیا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیر مسلم قرار دے کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اسلام کی طرف دعوت دی۔نوٹ :۔یا د رکھنا چاہیے کہ هُوَ يُدعی میں هُوَ کی ضمیر کا مرجع خواہ مَنْ أَظْلَمُ 66