مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 442
442 پانچویں دلیل:۔أَمْ يَقُولُونَ افْتَريهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيْتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَدِقِيْنَ فَإِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ (هود: ۱۵،۱۴) کہ کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ اس نے اپنے پاس سے بنالیا ہے۔ان سے کہہ دے کہ پھر اس جیسی دس سورتیں ہی بنا لا ؤ اور سوا خدا کے جس کو چاہو بطور مددگار بلالو۔پس اگر تم اور تمہارے مددگار بنانے پر کامیاب نہ ہوں۔تو پھر جان لو کہ یہ انسانی علم کا نتیجہ نہیں بلکہ علم الہی سے ہے۔قرآن مجید کا یہ چیلنج اس کے کلام الہی ہونے پر زبردست دلیل ہے اور پچھلی تیرہ صدیاں قرآن مجید کے اس دعوی کی صداقت پر گواہ ہیں مگر چودہویں صدی میں جو قلم کا زمانہ ہے اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات ہونے شروع ہو گئے۔مخالفین نے اپنی بد باطنی کا اظہار یہ کہہ کر کرنا شروع کیا کہ قرآن کا یہ چیلنج بدؤں اور جاہل عربوں کو دیا گیا تھا اور ایسیز مانہ میں دیا گیا تھا جبکہ چاروں طرف جہالت کا دور دورہ تھا۔پس ان لوگوں کا قرآن شریف کی مثل لانے پر قادر نہ ہوسکنا قرآن کی صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ہاں اگر ہمارے زمانہ میں جبکہ علوم وفنون کی ترقی سے انسانی دماغ ارتقاء کی انتہائی منازل طے کر چکا ہے کوئی شخص اس قسم کا چیلنج دے تو ایک نہیں ہزاروں انسان اس کا جواب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں۔اس اعتراض کو غلط ثابت کرنے اور مخالفین اسلام کا ایک دفعہ پھر منہ بند کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور آپ نے تمام دنیا کے سامنے بضرب دہل اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو اپنے خاص مکالمہ مخاطبہ سے مشرف فرمایا ہے اور مجھ کو وہ علوم اور معارف عطا فرمائے ہیں کہ دنیا کا کوئی انسان ان میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعجاز احمدی اور اعجاز مسیح وغیرہ کتابیں لکھیں اور کہا کہ اگر اعجاز احمدی کا جواب وقت مقررہ کے اندر لکھو تو دس ہزار روپیہ انعام لو۔اور فرمایا:۔خدا تعالیٰ اُن کی قلموں کو توڑ دے گا اور اُن کے دلوں کو نجی کر دے گا۔“ ( اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴۸) پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میر اسلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری جماعت کو چاہیے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔۔اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴۷)