مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 430 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 430

430 جو وحی خدا کی طرف سے نازل ہوئی اس میں ایک حرف بھی بڑھاتے یا کم کر دیتے تو خدا تعالیٰ آپ کو سزا دیتا حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی نظر میں سب دنیا سے معزز ہیں۔پھر اگر کوئی دوسرا (اس طرح پر ) افتراء کرے تو اس کا کیا حال ہو؟ ۱۲۔یہی مضمون تفسیر کشاف زیر آیت وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقاويل۔۔الخ سورة الحاقة آيت نمبر ۴۴ تا ۴۸ و ابن کثیر جلد ۱۰ صفحه اے بر حاشیہ فتح البیان و فتح البیان جلد ۱ صفحه ۲۷ و جلالین مجتبائی صفحه ۴۷۰ زیر آیت وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقاويل۔۔۔الخ سورة الحاقة آیت نمبر ۴۴ تا ۴۹ و شہاب علی البیضاوی جلد ۸ صفحه ۲۴۱ زیر آیت S۔۔۔۔۔۔S۔۔۔۔۔۔۔وَلَوْ تَقَولُ عَلَيْنَا بَعْلى الأقاويل۔۔۔۔الخ سورة الحاقة آيت نمبر ۴۴ تا ۴۹ و السراج المنير مصنفہ علامہ الخطيب البغدادی جلد ۲ صفحہ ۶۳۶ پر بھی ہے۔نوٹ نمبر :۔بعض غیر احمدی مولوی ہمارے استدلال سے تنگ آ کر کہا کرتے ہیں ” لو“ حرف شرط جب کسی جملہ میں مستعمل ہو تو اس کی جزا فوراً اسی وقت محقق ہو جایا کرتی ہے پس " لو تَقَوَّل والی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ نبی کوئی جھوٹا الہام بنا تا تو فوراً اسی وقت قتل کر دیا جاتا تو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ یہ قاعدہ ” کو “ کے متعلق بالکل من گھڑت ہے۔کسی کتاب میں مذکور نہیں نیز قرآن مجید میں ہے۔لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَدَ كَلِمَتُ رَبِّي (الکھف:۱۱۰) کہ اگر تمام سمندر خدا تعالیٰ کے کلمات کو لکھنے کے لئے سیا ہی بن جائیں تو وہ سمند ر ختم ہو جائیں مگر خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔کیا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سمندر لکھنا شروع کرنے کے ساتھ ہی یکدم ختم ہو جاتے یا یہ کہ باری باری کر کے آہستہ آہستہ سب ختم ہو جاتے۔جوں جوں خدا کے کلمات احاطہ تحریر میں لائے جاتے توں توں سیاہی بھی ختم ہو جاتی۔نوٹ نمبر ۲:۔بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید کئے گئے تھے۔ان کو ۲۳ برس کی مہلت بعد از دعوی نہ ملی تھی۔جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید کئے گئے تھے اور یہی جماعت احمدیہ کا مذہب ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی تو تحریر فرمایا ہے:۔(1) عادت اللہ اِس طرح پر ہے کہ اول اپنے نبیوں اور مرسلوں کو اس قدر مہلت دیتا ہے کہ دنیا کے بہت سے حصہ میں اُن کا نام پھیل جاتا ہے اور اُن کے دعوئی سے لوگ مطلع ہو جاتے ہیں اور پھر آسمانی نشانوں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ کے ساتھ لوگوں پر اتمام حجت کر دیتا ہے“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷)