مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 398
398 قَالَ الْعَبَّاسُ الْعَنُبَرِيُّ كَانَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَذَّابًا يَسْرِقُ الْحَدِيثَ ـ (تهذيب التهذيب زير لفظ عبدالرزاق و زیر لفظ معمر بن راشد کہ نسائی کے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔اور عباس عنبری کہتے ہیں کہ وہ کذاب تھا اور واقدی سے بھی زیادہ جھوٹا تھا یہ شخص کذاب تھا اور حدیثیں چرایا کرتا تھا۔سیہ روایت عبدالرحمن بن ہمام نے معمر سے لی ہے اور میزان میں لکھا ہے کہ قَالَ الدَّارُ قُطْنِي يُخْطِئُ عَلَى مَعْمَرَ فِي أَحَادِيثِ قَالَ ابْنُ عُيُيْنَةَ أَخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (ميزان الاعتدال زیر لفظ معمر بن راشد ) کہ یہ ان روایات میں علم غلطی کرتا تھا جو یہ معمر سے لینا بیان کرتا تھا ابن عیینہ کہتے ہیں کہ مجھے خوف ہے کہ یہ راوی قرآن مجید کی اس آیت کا مصداق تھا۔الَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (الكهف: ۱۰۵) اسی طرح معمر بن راشد کے متعلق یحیی ابن معین کہتے ہیں کہ ”ضعیف“ تھا (میزان الاعتدال زیر لفظ مــعــمــربــن راشد ) اور ابن سعد کہتے ہیں کہ شیعہ تھا اور ابو حاتم کہتے ہیں کہ بصرہ میں اس نے جو روایات بیان کی ہیں ان میں غلط روایات بھی ہیں۔(تهذیب التهذيب زرافظ معمر بن راشد) ۴:۔ابوداؤد کے راویوں میں ابو قلا بہ اور ثوبان بھی ہیں جن کے متعلق ضمن ب مندرجہ بالا میں بحث ہو چکی ہے۔ان کے علاوہ سلیمان بن حزب اور محمد بن عیسی بھی ضعیف ہیں۔سلیمان بن حزب کے متعلق خود ابوداؤد کہتے ہیں کہ راوی ایک حدیث کو پہلے ایک طرح بیان کرتا تھا، لیکن جب کبھی دوسری دفعہ اسی حدیث کو بیان کرتا تھا۔تو پہلی سے مختلف ہوتی تھی اور خطیب کہتے ہیں کہ یہ شخص روایت کے الفاظ میں تبدیلی کر دیا کرتا تھا (تهذيب التهذيب زير لفظ سلطان بن حزب ) محمد بن عیسی کے متعلق تو ابوداؤد کہتے ہیں۔كَانَ رُبَمَا يُدَرِّسُ (تهذيب التهذيب زیر لفظ محمد بن عیسیٰ ) کہ کبھی کبھی تدلیس کر لیتا تھا۔ابوداؤد کے دوسرے طریقہ میں عبدالعزیز بن محمد اور العلاء بن عبد الرحمن ضعیف ہیں۔عبد العزیز بن محمد کو امام احمد بن حنبل نے خطار کار۔ابوزرعہ نے سَيِّئُ الْحِفْظِ اور نسائی نے کہا ہے کہ سیی لَيْسَ بِالْقَوِي“ (یعنی قوی نہیں) ابن سعد کے نزدیک "کثیر الغلط “ اور ساجی کے نزدیک وہمی تھا (تهذيب التهذيب زير لفظ عبد العزیز بن محمد ( اسی طرح ابوداؤد کا دوسرا راوی العلاء بن عبد الرحمن بھی ضعیف ہے کیونکہ ان کے متعلق ابن معین کہتے ہیں۔هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ لَيْسَ حَدِيْتُهُمْ حُجَّةٌ “ (۱) سہل بن ابی صالح (۲) والعلاء بن عبدالرحمن (۳) و عاصم بن عبید الله (۴) ابن عقیل۔(تهذیب التهذيب زرلفظ العلاء بن عبدالرحمن)