مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 2
2 کے جس قدر تاریخی مذہب ہیں سب اللہ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللسان ہیں۔گو اس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو۔موجودہ مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت، یہودیت ، بدھ ازم، سکھ ازم ، ہندو ازم اور عقائد زرتشی تو سب کے سب ایک اللہ، خدا، الوہیم، پر میشور، پر ماتما، ست گر و یا یزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب کہ دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جُد اشدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں، خواہ روما میں، خواہ انگلستان میں، خواہ جاوا اور سماٹرا میں ، خواہ جاپان و چین میں ، خواہ سائبیریا و منچوریا میں۔یہ اتفاق مذاہب کیونکر ہوا اور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے آگاہ کیا ؟ پہلے زمانہ میں ریل و تا رو ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جواب ہے۔نہ اس طرح جہازوں کی آمدورفت کی کثرت تھی۔گھوڑوں اور خچروں وغیرہ کی سواری تھی اور بادبانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے پھر ان مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے نا آشنا ممالک میں ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہو گیا ؟ من گھڑت ڈھکونسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے۔پھر کیا اس قدر قوموں اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلہ خیالات کے ذرائع نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نامعلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم اور ہر ملک میں اس کا اظہار کیا گیا ہے۔اہل تاریخ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہو جائیں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے۔پس جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ گر کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی قائل ہوئی ہے۔دوسری دلیل: دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ وَتِلْكَ حُجَّتُنَا أَتَيْنهَا إبْرَاهِيمَ عَلى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَتٍ مَّنْ نَّشَاءُ ۖ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمُ عَلِيْمٌ وَوَهَبْنَا لَةَ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلَّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ وَاتُوبَ وَيُوْسُفَ وَمُوسَى وَهَرُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِى