مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 1
1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمَ ہستی باری تعالیٰ کے دلائل از افادات حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ پہلی دلیل: اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ قدَا فَلَحَ مَنْ تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَابْقَى إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ ابْراهِيمَ وَ موسى (الاعلى: ۴۱۵ ۲۰) یعنی منظفر منصور ہو گیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا اور اس نے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے عبادت کر کے اپنے اقرار کا ثبوت دیا لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو حالانکہ انجام کار کی بہتری ہی اصل بہتری اور دیر پا ہے۔اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے۔چنانچہ ابراہیم و موسی نے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اس میں بھی یہ احکام موجود ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفین قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے، خدا کی ذات کا اقرار کرنے والے اور پھر اس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب ومظفر ہوتے ہیں اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے تمام مذاہب میں مشترک ہے۔چنانچہ اس وقت کے بڑے بڑے مذاہب مسیحی، یہودی اور کفار مکہ پر حجت کے لئے حضرت ابراہیم اور موسی کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو۔انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے۔پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ کل مذاہب اس پر متفق ہیں اور سب اقوام کا مشترکہ مسئلہ ہے چنانچہ جس قدر اس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور کچی معلوم ہوتی ہے۔حقیقت میں کل دنیا کے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کل جہان کو پیدا کیا۔مختلف ممالک اور احوال کے تغیر کی وجہ سے خیالات و عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے لیکن باوجوداس