مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 341
341 د۔ایک اور مقام پر فرماتا ہے: وَلَوْ اَنَا أَهْلَكْنُهُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا اَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولاً فَنَتَّبِعَ ابْتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَ نَخْزُى (طه: ۱۳۵) کہ اگر ہم نبی کے ذریعہ نشان کھانے سے قبل ہی ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کر دیتے تو وہ ضرور یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تا کہ ہم اس رسول کی یوں ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی پیروی کر لیتے ( اس آیت کا مضمون سورۃ القصص : ۴۸ میں بھی بیان کیا گیا ہے ) ان سب آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکال کہ خدا تعالیٰ انبیاء بھیجتا رہے گا۔چونکہ عذاب سے قبل نبی آتا ہے اور عذاب آئے گا تو نبی بھی آئے گا۔بارہویں آیت:۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (الـمــائـدة: (۴) کہ آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔گویا قرآن شریف کو مکمل شریعت قرار دیا ہے۔شریعت کا کام دنیا میں انسان کا خدا کے ساتھ تعلق قائم کرانا ہوتا ہے جس قدر شریعت ناقص ہوگی اسی قدر وہ خدا کے ساتھ انسان کا ناقص تعلق قائم کرائے گی۔اور جتنی وہ کامل ہوگی اتنا ہی وہ تعلق بھی جوانسان کا خدا سے قائم کرائے گی کامل ہو گا۔اب قرآن مجید مکمل شریعت ہے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بھی کامل پیدا کرتی ہے اور سب سے کامل تعلق جو ایک انسان کا خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ نبوت ہے۔اگر کہو کہ قرآن مجید کسی انسان کو نبوت کے مقام پر نہیں پہنچا سکتا تو دوسرے لفظوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید کامل نہیں بلکہ ناقص شریعت ہے اور یہ باطل ہے اور جو ستلزم باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔لہذا تمہارا خیال باطل ہے کہ قرآن نبوت کے مقام تک نہیں پہنچا سکتا۔تیرھویں آیت:۔وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيْنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ تُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ (ال عمران : ۸۲) جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب تم کو کتاب اور حکمت دے کر بھیجا جائے اور پھر تمہارے پاس ہمارا رسول آئے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔