مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 335 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 335

335 ۲ تفسیر اتقان مصنفہ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ میں ہے:۔خِطَابُ الْوَاحِدِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ نَحْوَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ۔۔۔۔فَهُوَ خِطَابٌ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ إِذْ لَا نَبِيَّ مَعَهُ وَلَا بَعْدَهُ۔» ( تفسیر اتقان جلد ۲ صفحه ۳۴ مصری زیر آیت يَايُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطيبتِ - المومنون : ۵۲ ) یعنی اس آیت میں یا يُّهَا الرُّسُلُ کا خطاب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ہے۔کیونکہ بخیال مصنف آنحضرت کے زمانہ یا ما بعد کوئی نبی نہیں۔۔امام راغب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وَ قَوْلُهُ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا قِيْلَ عُنِيَ بِهِ الرَّسُولُ وَصَفْوَةً اَصْحَابِهِ فَسَمَّاهُمُ رُسُلًا لِضَمِهِمْ إِلَيْهِ۔“ (مفردات راغب حرف الراء مع السين زير لفظ رُسل ) یعنی اس آیت میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چیدہ اصحاب سے کیا گیا ہے اور ان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستگی کے باعث ”رسول“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔پس یہ ثابت ہے کہ یہ خطاب انبیاء سابقہ کو نہیں۔باقی رہا یہ کہنا کہ لفظ رُسُل جو جمع کا صیغہ ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واحد کے لئے آیا ہے تو یہ محض خوش فہمی اور ایک کو سوالا کھ کے کہنے کے مترادف ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں وَالَّذِينَ آمَنُوا سے مراد حضرت علی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے شریعت ہے اس لئے اس میں تمام ایسے احکام بیان فرما دیئے گئے جن پر قیامت تک عمل کیا جانا ضروری تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو انبیاء آنے والے تھے ان کے لئے بھی مکمل ہدایات قرآن مجید میں نازل فرما دی گئیں۔ان ہدایات میں سے ایک ہدایت پر مشتمل یہ آیت بھی ہے۔ساتویں آیت:۔وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُوْلَ اللهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا (الاحزاب: ۵۴) تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذاء دو۔اور نہ یہ مناسب ہے کہ