مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 311
311 اب جب مسیح ناصری امت مرحومہ کا موعود نہیں تو سوال ہوگا کہ پھرا بن مریم کیوں فرمایا ؟ تو یا در ہے کہ تشابہ صفات کی وجہ سے ایک شخص کا نام دوسرے کو دیا جاتا ہے جیسا بخاری کتاب الاذان باب اهل العلم والفضل احق بالامۃ پر یہ حدیث ہے کہ آنحضرت نے اپنی بیویوں کو فرمایا اِنَّ كُنَّ لَاَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُف کہ تم یوسف والیاں ہو۔اس میں آپ نے اپنے آپ کو یوسف اور اپنی ازواج مطہرات کو یوسف والیاں ٹھہرایا ہے حالانکہ آپ یوسف نہ تھے۔پس معلوم ہوا کہ مشابہت اور مماثلت کی وجہ سے ایک کا نام دوسرے کو دے دیا جاتا ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص حاتم ہے یا بولتے ہیں، ابو یوسف، ابوحنیفہ۔کیا ابو یوسف ابوحنیفہ ہے؟ کیونکہ ان میں غایت درجہ کی مماثلت تھی۔اسی طرح مسیح موعود کا نام مثیل ابن مریم ہونے کی وجہ سے ابن مریم ہو گیا۔چوں مرا نورے پئے قوم سیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من نهاده اند در متین فارسی صفحه ۳۹ نیا ایڈیشن مطبوعه نظارت اشاعت) اس طرح یہ بھی ہے چوں مراحکم از پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۸) عقیدہ حیات مسیح اور حضرت مسیح موعود بعض غیر احمدی خصوصیت سے براہین احمدیہ کی وہ عبارت پیش کیا کرتے ہیں جس میں حضرت اقدس نے مسیح ناصری کو زندہ تسلیم کیا ہے۔ان کا اعتراض یہ ہے کہ کیا براہین احمدیہ کی تحریر کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید کا علم میچ نہیں دیا تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دیا تھا۔چنانچہ براہین احمدیہ کی محولہ عبارت نکال کر دیکھ لو۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ دربارہ حیات مسیح درج فرمایا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی جو علم آپ کو اللہ کی طرف سے اس بارے میں دیا گیا تھا وہ بھی درج فرما دیا ہے۔اس جگہ ہم وہ عبارت درج کرتے ہیں۔