مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 297
297 (۲) حضرت عائشہ صدیقہ کا خواب اس حدیث کے ظاہری معنی لینے سے روکتا ہے جو یہ ہے۔اِنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجُرَتِي فَقَصَصْتُ رُءُ يَايَ عَلَى أَبِي بَكْرِ الصِّدِيقٌ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ دُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ هَذَا اَحَدُ أَقْمَارِكَ وَهُوَ خَيْرُهَا (موطا امام مالک جلد اصفحه ۱۲۱ مصری ) کہ حضرت اُم المومنین عائشہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند میرے حجرہ میں گرے ہیں۔میں نے اپنا یہ خواب اپنے والد صاحب ابوبکر صدیق سے بیان کیا۔پس جب آنحضرت فوت ہوئے اور حضرت عائشہ کے حجرہ میں مدفون ہوئے تو حضرت ابو بکڑ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ یہ تیرے تین چاندوں میں سے ایک ہے جوسب سے بہتر ہے۔آنحضرت کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر و عمر فوت ہوئے اور اسی حجرہ میں مدفون ہوئے۔گویا حضرت عائشہ کے خواب کے مطابق تین چاند ان کے حجرہ میں گر چکے اب اگر حضرت عیسیٰ بھی اس میں مدفون ہوں تو حضرت عائشہ کا خواب غلط ہوتا ہے۔(۳) آنحضرت نے فرمایا انا۔۔۔اَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُ عَنْهُ الْقَبَرُ (مسلم کتاب الفضائل باب تـفـضـيـل نبينا على جميع الخلائق ) میری خصوصیت یہ ہے کہ میں پہلا انسان ہوں گا جس کی قیامت کے دن قبر پھاڑی جائے گی۔اب اگر حضرت عیسی بھی حضور کی قبر میں ساتھ ہی مدفون ہوں تو جس وقت آنحضرت کی قبر پھاڑی جاوے گی تو وہ بھی اس خصوصیت میں شامل ہو جائیں گے۔(۴) ترمندی میں ہے کہ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ أَتِي أَهْلُ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ - ( ترندی۔ابواب المناقب بَابِ اَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنشَقُ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ) کہ حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ میں پہلا انسان ہوں کہ جس کی زمین ( قبر ) پھاڑی جائے گی۔پھر میرے بعد ابو بکر اور ابو بکر کے بعد عمر اور عمر کے بعد جنت البقیع کے باقی مومن۔پس سب اکٹھے کئے جائیں گے۔اگر حضرت عیسی نے بھی آنحضرت کی قبر میں یا بقول شما حضور کے روضہ میں دفن ہونا ہوتا تو دوسرے تیسرے یا کم از کم چوتھے نمبر پر ہی ان کا نام آجاتا۔آنحضرت نے اپنے روضہ ( حجرہ عائشہ) میں مدفون ہونے والے اپنے سمیت تینوں چاندوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے بعد جنت البقیع