مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 283
283 اگر چہ وہ سعید بن جبیر کے طریق سے تو نہیں لیکن پھر بھی ضعیف ہے کیونکہ اس میں بھی یہی ابی ابن العباس راوی ہے جو ضعیف ہے۔پھر لکھا ہے وَتَدُلُّ عَلَيْهِ قَرَاءَ ةُ أَبَيِّ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمْ بِضَمِّ النُّونِ مَعْنَى وَ إِنْ مِنْهُمْ اَحَدٌ إِلَّا سَيُؤْمِنُونَ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمُ - ( تفسیر کشاف زیر آیت وَإِنْ مِنْ أَنه أَهْلِ الْكِتَبِ یعنی ان معنوں پر حضرت ابی بن کعب کی یہ قراءت دلالت کرتی ہے إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمْ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو اپنی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے۔حضرت ابی ابن کعب کی قراءت کی اہمیت بخاری کی اس حدیث سے ظاہر ہے سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَ سَالَمِ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَ مَعَاذِ ابْنَ جَبَلٍ وَ أَبَي بُنِ كَعْبٍ (بخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب ابی بن کعب جلد ۲ صفحه ۹۴ (مصری) که آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن شریف حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سالم، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابی ابن کعب سے سیکھو۔اب متقی مومن کا فرض ہے کہ وہ دونوں قراء توں کو مد نظر رکھ کر معنے کرے اور وہ یہی ہوں گے کہ یہود کا ہر فرد اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسی کے مصلوب ہونے پر ایمان لائے گا اور لاتا ہے ورنہ وہ یہودیت کو ترک کر کے صداقت عیسی کا قائل ہو جائے گا جو باطل ہے۔وجه ششم: وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِ عِيْسَى وَ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَبْلَ مَوْتِ الْيَهُودِي۔۔۔۔وَ قِيلَ الضَّمِيرُ الْاَوَّلُ لِلهِ وَ قِيْلَ إِلى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ قَالَ بِهِ عِكْرَمَةُ (فتح البیان زیر آیت وَإن من أهل الكتب) که حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ عیسی کی موت سے پہلے اور انہی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہودی کی موت سے پہلے۔۔۔اور کہا گیا ہے کہ پہلی ضمیر اللہ کی طرف پھرتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آنحضرت کی طرف پھرتی ہے اور حضرت عکرمہ کا بھی یہی مذہب ہے۔اس آیت میں دو ضمیر میں ہیں۔ایک بہ اور دوسری بھم۔ان دونوں ضمیروں کے مرجع کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے۔پہلی ضمیر کا مرجع حضرت عیسی ، اللہ، نبی اور قرآن بتائے ہیں اور دوسری ضمیر کا مرجع عیسی اور کتابی بتاتے ہیں۔پس یہ دلیل غیر احمدیوں کی تب صحیح ہو سکتی ہے کہ تین مرجع میں مسیح پر