مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 282
282 یعنی عتاب بشیر کو ابن معین اور ابن حبان اور دار قطنی نے ثقہ قرار دیا ہے۔غیر احمدی:۔ابن جریر میں ابن عباس کا قول قَبْلَ مَوْتِ عیسی سعید بن جبیر کے طریق سے باسناد صحیح درج ہے۔بحوالہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۷۲ ۵ طبع ۱۹۵۰)۔جواب:۔ابن جریر میں سعید بن جبیر کے طریق سے صرف دو روایات درج ہیں۔پہلی روایت محمد بن بشار نے ابن مہدی عبد الرحمن سے اور اس نے سفیان سے اور اس نے ابی حصین سے اور اس نے سعید بن جبیر سے۔سو یہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ لکھا ہے:۔قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيَارٍ سَمِعْتُ عَمْرِو ابْنَ عَلِيِّ يَحْلِفُ أَنَّ بَنْدَارًا يُكَذِّبُ فِيمَا يَرُوِى عَنْ يَحْى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَلِيِّ ابْنِ الْمَدِينِي سَمِعْتُ أَبِى وَ سَئَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ رَوَاهُ بَنْدَارٌ عَنِ ابْنِ مَهْدِي۔۔۔فَقَالَ هَذَا كَذِبٌ فَرَأَيْتُ يَحْىٰ لَا يَعْبَأُ بِهِ وَيَسْتَضْعِفُهُ قَالَ وَ رَأَيْتُ الْقَوَارِيُرِى لَا يَرْضَأُ بِه - (تهذيب التهذيب الجزء الخامس بیروت لبنان طبع ثامنیه ۱۹۹۵ء صفحہ ۴۸) کہ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ عمر و بن علی نے حلف اٹھا کر کہا کہ محمد بن بشار بندار جھوٹ بولتا تھا ان روایات میں جو اس نے بیٹی سے روایت کی ہیں۔اسی طرح سے علی بن المدینی سے محمد بن بشار کی ایک روایت جواب مہدی سے لی ہے پوچھی گئی تو انہوں نے اس روایت کو کذب محض قرار دیا۔اس طرح یحیی بن معین محمد بن بشار کو اچھا نہیں سمجھتے تھے (اس کی پرواہ نہ کرتے تھے ) بلکہ اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔اسی طرح قواریری بھی اسے پسند نہ کرتا تھا۔یہ تو حال ہے پہلی روایت کا۔(یادر ہے کہ یہ روایت بھی محمد بن بشار نے ابن مہدی سے روایت کی ہے )۔دوسری روایت کا ایک راوی ابی بن العباس بن سہل الانصاری ہے جس کے متعلق لکھا ہے:۔قَالَ أَبُو بَشْرِ الدُّوَلَابِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِي قُلْتُ وَ قَالَ ابْنُ مُعِينٍ ضَعِيفٌ وَ قَالَ أَحْمَدُ مُنْكِرُ الْحَدِيثِ۔وَ قَالَ النَّسَائِي لَيْسَ بِالْقَوِي وَ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ لَهُ أَحَادِيثُ لَا يُتَابَعُ عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا۔۔۔۔۔قَالَ الْبُخَارِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيّ تهذيب التهذيب ذكر ابن عباس بن سهل بن سعد الانصاری ) که ابوبشر الدولابی نے کہا ہے کہ یہ راوی ثقہ نہیں۔ابن معین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور امام احمد کے نزدیک منکر الحدیث تھا اور نسائی نے بھی غیر قوی قرار دیا ہے۔عقیلی نے لکھا ہے کہ اس راوی کی حدیث قابل اتباع نہیں ہوئی۔امام بخاری کے نزدیک بھی یہ راوی قوی نہیں ہے۔ابن جریر میں قَبلَ مَوْتِ عِیسی والی روایت ابن عباس سے صرف ایک ہی روایت ہے