مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 176 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 176

176 اس عبارت میں قضا و قدر کے مالک سے مراد بہاء اللہ خود ہے اگر دعوی خدائی نہ ہوتا تو اپنے تئیں قضا وقد رکا مالک نہ کہتے۔۲۔کتاب الاقدس صفحه ۲۲۵ - الَّذِى يَنطِقُ فِى السّجُنِ الْأَعْظَمِ أَنَّهُ لَخَالِقُ الْأَشْيَاءِ وَ مُوجِدُ الْأَسْمَاءِ قَدْ حَمَلَ الْبَلايَا لِإِحْيَاءِ الْعَالَمِ وَإِنَّهُ لَهُوَ الْاِسْمُ الْأَعْظَمُ الَّذِي كَانَ مَكْتُوبًا فِي أَزَلِ الْأَزَالِ کہ وہ شخص جو عکہ کے بڑے قید خانہ میں بولتا ہے ( یعنی خود بہاء اللہ ) وہ تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ان کا ایجاد کرنے والا بھی ہے۔اس نے مصیبتوں کو دنیا کے زندہ کرنے کے لیے اپنے اوپر اٹھایا اور اسم اعظم ہے جو ہمیشہ سے مخفی تھا۔۔یہ بہاء اللہ خود عکہ کے قید خانہ میں سے اپنے متعلق لکھ رہا ہے۔یہ الفاظ قابل غور ہیں۔وَالْكِتَبُ يَقُولُ قَدْ جَاءَ مُنْزِلِی ( کتاب الاقدس صفحه ۲۴۰ ) کہ کتاب بیان پکار کر کہہ رہی ہے کہ میرا اتارنے والا آ گیا ہے۔یہ کتاب بیان خدا کی طرف سے اتاری ہوئی بتلائی جاتی ہے۔بہاء اللہ کہتا ہے کہ اس کے اتارنے والا میں آگیا ہوں۔- يَا عِيسَى افْرَحُ بِمَا يَذْكُرُكَ مَالِكُ الْعَرْشِ وَالشَّرَى (کتاب الاقدس صفحه اے ) یہ بہاء اللہ کے خط بنام مرید کا ایک فقرہ ہے۔اس میں عرش و فرش کا مالک بہاء اللہ اپنے تئیں قرار دیتا ہے۔۵۔کتاب الاقدس صفحہ ۶۹ پر بہاء اللہ نے محیط کل ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو خدا کی صفت ہے۔- کتاب الاقدس صفحہ ۵۸ پر میمن ، قیوم ، رسولوں کو بھیجنے والا اور معبود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔۷۔کتاب الاقدس صفحہ ۱۸۸ پر عالم کل یعنی محیط کل عالم ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔کتاب الاقدس باب شریعت میں عیسائیوں کے عقیدہ کی طرح انسانی ہیکل میں خدا تھے کیونکہ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانوں کی ہر حال میں مدد کرنے پر قادر ہوں اور یہ صرف خدا کا کام ہے۔۹۔کتاب الاقدس باب شریعت میں تمام بادشاہوں کو پیدا کنندہ قرار دیا ہے اور یہ صفات خدائی ہیں۔۱۰۔کتاب الاقدس صفحہ ۱۵ اپر ہے يَذْكُرُونَ نُقْطَةَ الْبَيَانِ وَيَفْتُوْنَ عَلَىٰ مُرْسِلِهِ وَيَقْرَءُ وُنَ الْآيَاتِ وَيُنْكِرُونَ مُنْزِلَهَا۔اس میں بہاء اللہ بانی گروہ کے اس حصہ کو جو بہاء اللہ کے دعاوی کو تسلیم نہیں کرتا مخاطب کر کے اپنی حیثیت یہ قرار دیتے ہیں کہ باپ کو بھیجنے والے اور اس پر کتاب بیان