مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 124 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 124

124 دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔“ (متی ۲۳/۱۵) تیرھواں اعتراض:۔مرزا صاحب کہتے ہیں کرم خا کی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار گویا اپنے آپ کو انسان بھی نہیں سمجھتے چہ جائیکہ وہ مسیح ہوں۔الجواب :۔ذرا اپنی بائیل کو پڑھوتا تمہیں معلوم ہو کہ تم جس قول کو بغرض تکذیب پیش کر رہے ہو وہی قول صداقت مسیح موعود علیہ السلام کا مؤید ہے۔(الف)۔داؤد کہتا ہے۔پر میں کیڑا ہوں نہ انسان۔آدمیوں کا تنگ ہوں اور قوم کی عار“ (۲۲ زبور آیت ۶) (ب) تمہارا صحیح کہتا ہے۔لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لیے سر دھرنے کی جگہ نہیں۔“ (متی ۸/۲۰) (ج) پولوس کہتا ہے :۔"ہائے میں کیسا کمبخت آدمی ہوں۔“ (رومیوں ۷۱۲۴ ) (د) کاش تم میری تھوڑی سی بیوقوفی کی برداشت کر سکتے۔(۲) کرنتھیوں باب ۱۔آیت۱) (ھ) اس قسم کے الفاظ خدا کے نیک بندے اپنی نسبت بطور انکسار استعمال فرمایا کرتے ہیں۔ان کو حقیقت پر محمول کر کے ان پر ہنسی اڑانا شریف آدمیوں کا شیوہ نہیں۔حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :۔میں نے حدیث شریف پڑھی ہے جس میں جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ زمانہ آخر میں مخلوق کا نیک گمان اس شخص کے متعلق ہوگا جو سب سے بدتر ہوگا اور وعظ بیان کرے گا۔چنانچہ میں نے اپنے آپ کو سب سے بدترین دیکھا۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سچا ہونے کی وجہ سے وعظ بیان کرتا ہوں۔“ ( تذکرہ اولیاء حضرت خواجہ فرید الدین عطار صفه ۲۳۱ اشاعت اول اگست ۲۰۰۴ ء ادارہ اسلامیات لاہور۔کراچی ) (و) حضرت داتا گنج اپنی کتاب ”کشف المحجوب“ میں تحریر فرماتے ہیں:۔داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ امام صاحب (امام جعفر صادق) کے پاس آئے اور کہا۔اے رسول کے بیٹے ! مجھے کوئی نصیحت فرماؤ کیونکہ میرا دل سیاہ ہو گیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ اے ابا سلمان! آپ اپنے زمانہ کے زاہد ہیں۔آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے؟ داؤد طائی نے فرمایا کہ اے