مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 111
111 صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از روئے بائیل پہلی دلیل: الف۔وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“ (استثنا۱۸/۲۰) ب خداوند یوں کہتا ہے کہ ان نبیوں کی بابت جو میرا نام لے کر نبوت کرتے ہیں۔جنہیں میں نے نہیں بھیجا۔یہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک کئے جائیں گے۔( یرمیاہ : ۱۴ تا ۱۴/۱۶) ج۔اور وہ جھوٹا نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے گا۔‘ (استثنا: ۱۳/۵) و۔اور میرا ہاتھ ان نبیوں پر جو دھوکہ دیتے ہیں اور جھوٹی غیب دانی کرتے ہیں چلے گا۔۔۔۔میں اپنے غضب کے طوفان سے اسے توڑوں گا اور میرے قہر سے چھما چھم مینہ برسے گا اور میرے خشم 66 کے پتھر پڑیں گے تاکہ اسے نابود کریں۔(حزقی ایل باب ۱۳ آیت ۹ تا ۱۳)۔چنانچہ انجیل اعمال ۳۶، ۵/۳۷ میں دو جھوٹے نبیوں کا ذکر بھی ہے جو مارے گئے اور ان کے متبعین تتر بتر ہو گئے۔پہلے کا نام تھی اس اور دوسرے کا نام یہود گیلی تھا۔دوسری دلیل : یسوع کہتا ہے۔” تم میں کون مجھ پر گناہ ثابت کر سکتا ہے۔“ (یوحنا ۸/۴۶) نیز یوحنا ۱۴/۱۹ ” میں اتنی مدت سے تمہارے ساتھ ہوں۔“ حضرت مرزا صاحب : ” کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔“ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۴) تیسری دلیل : قبولیت دعا: ”جو دعا ایمان کے ساتھ ہوگی اس کے باعث بیمار بچ جائے گا اور خداوند اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔اور اگر اس نے گناہ کئے ہوں تو ان کی بھی معافی ہو جائے گی۔پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے اپنے گناہوں کا اقرار کرو۔اور ایک دوسرے کے لیے دعامانگوتا کہ شفا پاؤ۔راستباز کی دعا کے اثر سے بہت کچھ ہوسکتا ہے۔“ ( یعقوب ۱۵ تا ۵/۱۷ و یوحنا ۹/۳۱) میں کثرت قبولیت دعا کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں تمہیں ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔“ ( ضرورة الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۷)