مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 94
94 کہ جبر اصلیب دیا گیا۔پس وہ کفارہ گناہوں کا کیسے ہوئے؟ (متی ۲۷۱۴۶)۔جب مسیح نے سب گناہ اٹھالئے تو گویا وہ مجموعہ گنا ہوں کا ہوئے۔پس گناہ گار آدمی اپنے گنا ہوں سے عذاب ابدی میں رہے گا۔تو کیا حال ہے اس کا جس نے سب کے گناہ اٹھائے۔بتقدیر تسلیم کفارہ انبیاء جو پہلے مسیح سے گزرے ہیں لازم آتا ہے کہ کفارہ کے بغیر دوزخ میں رہے ہوں۔کیونکہ تب تک کفارہ نہ ہوا تھا۔ہم پوچھتے ہیں کہ کفارہ سب کا ہوا ہے یا کہ موجودین کا۔بر تقدیر نانی آئندہ اور گزشتہ کے واسطے نیا کفارہ چاہیے۔بر تقدیر اول جب لوگ اور گناہ پیدا نہ ہوئے تھے تو ان کے گناہ کیونکر ایک شخص نے اٹھالئے ؟۔جب مسیح نے سب گناہ اٹھا لئے تو وہ گویا اول نمبر پر گنہگاروں میں سے ہوئے۔پس محتاج ہوئے طرف کسی منجی کے۔کیونکہ بجز منجی کے نجات ممکن نہیں۔پس وہ بھی محتاج کفارہ کا ہو گا اور تسلسل لازم آئے گا۔۱۰۔کفارہ سے لازم آتا ہے کہ قاتل اور چور وغیرہ مجرموں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے۔حالانکہ مسیحی لوگ سزا دیتے اور لیتے بھی ہیں۔۔جب کفارہ ہو گیا۔تو نیکی کرنے کی کیا حاجت رہی۔باوجود اس کے مسیح نے چالیس روزے رکھے اور حواری بھی پابندی نیکی کی کرتے رہے۔۱۲۔اگر مسیح نے گناہ اٹھائے بھی ہیں تو لازم آتا ہے کہ امور غیر متناہی واقع ہوں۔۱۳ مسیح اگر کفارہ ہونے کو آئے تھے تو آتے ہی کفارہ کیوں نہ ہوئے۔بلکہ انجیل سے ثا ہے کہ خلقت کو نصیحت کرنے آئے تھے۔(لوقا ۳/۱۸) ۱۴۔اس کفارہ کے ہونے سے معافی گناہ کی تو نہیں ہوئی بلکہ زیادتی وقوع میں آئی ہے کیونکہ یہودی مسیح کی تحقیر کرنے کے باعث مستحق عذاب کے ہوئے۔۱۵۔اگر کفارہ موافق مرضی خدا کے ہوتا تو علامت رحمت ظاہر ہوتیں حالانکہ چارا نجیلوں سے ثابت ہے کہ بعد سولی کے اس طرح کی علامت خدا کے قہر کی ظاہر ہوئیں کہ کبھی نہ ہوئی ہوں گی۔مثلاً جہان میں اندھیرا ہو جانا اور مردوں کا قبروں سے نکلنا، زمین کا کانپنا ، ہیکل کا پردہ پھٹ جانا۔وغیرہ وغیرہ ۱۶۔جبکہ با قرار مسیحیان حضرت عیسی جز وخدا ہیں تو یہ ظاہر ہے کہ صلیب پر کھینچنے والا انسان