مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 88
88 کافی ہے۔خدا کا تجسم محال ہے انجیل کا مندرجہ ذیل اقتباس عیسائی پادریوں کی تمام منطقیانہ موشگافیوں کے جواب کے لئے اگر چہ انہوں نے خدا کو جان لیا۔مگر اس کی خدائی کے لائق اس کی بڑائی اور شکر گزاری نہ کی بلکہ وہ باطل خیالات میں پڑ گئے اور ان کے بے سمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بے وقوف بن گئے اور غیر فانی خدا کے جلال کو فانی انسان اور پرندوں اور چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا۔(رومیوں:۲۱ تا ۱/۲۳) حواری خدا کی عبادت کرتے تھے ا۔”ہم جو خدا کی روح سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یسوع مسیح پر فخر کرتے ہیں۔“ 66 (فلپیوں ۳/۳) ۲۔مگر بچے پرستار روح اور راستی سے باپ کی پرستش کرتے ہیں۔“ (یوحنا ۲۳ ۴/۲۴)۔حواریوں کا ایمان مسیح کا باپ سے کمتر ہونے پر بہت صاف تھا۔چنانچہ پولوس کا کلام شرک سمجھا۔” تم مسیح کے ہو۔مسیح خدا کا ہے۔ہر ایک مرد کا سر مسیح ہے اور مسیح کا سر خدا ہے۔“ (۱۔کرنتھیوں : ۳/۲۳) (۱۔کرنتھیوں: ۱۱/۳) 9966 ۴۔حواری سوائے باپ کے کسی کو خدا نہ کہتے تھے۔”ہمارا ایک خدا ہے جو باپ ہے۔“ (۱) کرنتھیوں ۸/۴۶) ۵۔اس اکیلے خدا کی تعریف۔وہ مبارک اور اکیلا حاکم۔بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا ہے۔فقط اسی کو ہے۔وہ اس نور میں رہتا ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اور اسے کسی انسان نے نہ دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔اس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے۔(ا تی تھیں ۱۵، ۶/۱۶) مسیح نے خدائی کا دعوی نہیں کیا (اقبالی ڈگری) مسیح نے خدا ہونے کا دعویٰ بالکل نہیں کیا۔یہ صرف عیسائی صاحبان کی خوش فہمی ہے کہ ان کو