مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 82 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 82

82 کے حضور راستباز اور خداوند کے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے۔“ دیکھیے یہ زکریا اور اس کی بیوی کی تعریف ہے۔اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی بالکل بے گناہ تھے۔تو یہ دعویٰ کرنا کہ آدم کی اولاد میں سب گنہگار ہیں۔خود لوقا کے نزدیک غلط ہے کیونکہ زکریا اور اس کی بیوی بابا آدم ہی کی اولاد میں سے تھے۔۔یہ کہنا کہ جو آدم کی پشت میں سے نہ ہو وہ بے گناہ ہوتا ہے ایک نہایت ہی بدیہی البطلان قضیہ ہے۔کیا شیطان گنہگار نہیں ؟ اور کیا وہ آدم کی اولاد میں سے ہے؟ پھر سانپ نے گناہ کیا اور اسے مٹی کھانی پڑی۔کیا وہ آدم کی پشت سے ہے؟ پھر تمام وہ دیو یا بھوت جنہیں مسیح اور اس کے حواری نکالا کرتے تھے خبیث روحیں نہ تھیں؟ کیا وہ بھی آدم کی نسل سے تھے؟ ۴۔عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح بے گناہ تھا۔مدعی ست گواہ چست والی بات یاد دلاتا ہے کیونکہ مسیح صاف اقرار کرتا ہے کہ مجھے نیک مت کہو نیک صرف باپ ہے۔پھر اگر خود مسیح بھی دعویٰ کرتا تو کیا ہوتا۔دلیل کے بغیر تو کوئی شخص نہیں مانتا۔گو ہم اسے نیک سمجھتے ہیں اس لئے کہ ہمارے قرآن نے اس کی تعریف کی مگر یہودیوں کو کون لا جواب کرے۔وہ فوراً الزام لگانے شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا۔بد چلن عورت سے تیل ملوایا۔یہودیوں کے عالموں کو گندی گالیاں دیں۔بغیر اجازت لینے کے حواریوں سمیت ایک کھیت کے سئے تو ڑ کر نوش کرنے لگا۔کھاؤ پیو اور شرابی تھا۔غرض ان یہودیوں کا منہ کون بند کرے۔عیسائیوں کی یہ دلیل کہ مسیح اس وجہ سے کہ وہ آدم کی نسل سے نہ تھا پاک اور بے گناہ ہے قطعی طور پر غلط ہے۔کیونکہ:۔ا۔آدم کا گناہ جو بقول عیسائیوں کے موروثی طور پر اب تک آدم کی نسل میں چلا آتا ہے۔اس کا اصل ذمہ وار ( مطابق پیدائش ۱- ۳/۶) آدم نہ تھا بلکہ جو تھی جس نے شیطان کے دھوکہ میں آکر آدم کو بہکایا۔پس مسیح بوجہ حوا کی اولاد ہونے کے گنہ گار ٹھہرا۔۲۔تورات میں لکھا ہے:۔الف۔اور وہ جوعورت سے پیدا ہوا ہے وہ کیونکر پاک ٹھہرے۔“ (ایوب ۲۵/۴) ب۔اور وہ جو عورت سے پیدا ہوا ہے وہ کیونکر صادق ٹھہرے۔“ (ایوب ۵/۱۵) (۵) چونکہ مسیح بے گناہ تھا اس لئے وہ خدا ہوا مگر اس خدائی میں مسیح اکیلا نہیں۔زکریا بھی گناہ