مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 926 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 926

926 تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دوسری بیوی سے چارلڑ کے مجھے دے گا اور چوتھے کا نام مبارک ہوگا۔“ نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفر ۴ ۵۷) ب۔شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ۔۔۔ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے تین ان میں سے تو آم کے پھل تھے مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولا د ہے۔“ ( مکتوب بنام حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مورخہ ۱۸ جون ۱۸۸۶ء مطبوعہ الحکم ۱۷/جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶) گویا یہ رویا قریباً جنوری یا فروری ۱۸۸۶ء میں ہوا۔اور ہر دو عبارات کی رو سے مبارک احمد کے متعلق نیز چار بیٹوں کے متعلق الگ الہام ”تین کو چار کرنے کا بھی تھا مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ اس کو مصلح موعود قرار دیا جائے؟ کیا کہیں یہ لکھا ہے کہ سوائے مصلح موعود کے کوئی اور تین کو چار کرنے والا نہیں ہوسکتا؟ مبارک احمد نو سالہ میعاد کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا۔کیونکہ اس کی تاریخ پیدائش ۱۴ رجون ۱۸۹۹ ء ہے۔گویا نو سالہ میعاد ختم ہونے کے چار سال بعد وہ پیدا ہوا۔اس لئے اس کے متعلق تو یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ صلح موعود ہے۔تین کو چار کرنے والا کی جو صفت مصلح موعود کی بیان کی گئی ہے۔وہ الگ ہے۔وہ اکیلی صفت نہیں بلکہ اس کے ساتھ بیسیوں دوسری علامات ہیں۔جو مبارک احمد مرحوم میں پائی نہ جاتی تھیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کو خود مبارک احمد کی ولادت سے بھی پہلے معلوم تھا کہ وہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گا۔(ملاحظہ ہو پاکٹ بک ہذا صفحہ ۶۶۶) پس حضرت اقدس علیہ السلام کے ذہن میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ مبارک احمد مصلح موعود ہے۔امر واقعہ جب ہم امر واقعہ کے لحاظ سے دیکھتے ہیں تو یہ عقدہ بالکل حل ہو جاتا ہے کیونکہ مطلقاً حضرت اقدس علیہ السلام کے بیٹوں میں سے حضرت خلیفہ امسیح الثانی مصلح موعود ہی چوتھے بیٹھے ہیں۔(۱) حضرت مرزا سلطان احمد صاحب (۲) فضل احمد (۳) بشیر اول (۴) حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ۔پس اس لحاظ سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مطلقاً بلاشرط تین کو چار کرنے والے ہوئے لیکن مرزا مبارک احمد نہ تو مطلقاً حضرت اقدس کے چوتھے لڑکے تھے۔کیونکہ اس لحاظ سے وہ ساتویں تھے نہ وہ