مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 53 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 53

53 ہے۔(ستیار تھب کے دفعہ ے ) زمانہ جس طرح دوبارہ پیدا ہوتا ہے بغیر علت مادی کے اسی طرح مادہ بھی بغیر علت مادی کے پیدا ہوسکتا ہے۔(دیکھو حوالجات رگ وید بھوم کا صفه ۵۳ ،۷۸،۷۳۷۰ ) دلیل نمبر ۱:۔اگر وہ خلق نہیں کر سکتا تو وہ عالم نہیں۔اگر وہ عالم ہے تو خالق بھی ہے۔وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (يس: ٨٠) دلیل ہے۔پس جبکہ کامل علم خالق ہونے کا مقتضی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا خالق نہ ہونا اُس کے نقص علم پر دلیل نمبر ۱:۔ستیارتھ ب ۸ دفعہ ۵۷ جی اور پر کرتی کے صفات اور فعل اور عادات از لی ہیں۔۲۔خدا تو مرکب کو بھی بدل نہیں سکتا۔(ستیارتھ باب ۸ دفعہ ۱۴)۔جو قدرتی اصول ہیں۔مثلاً آگ گرم ، پانی ٹھنڈا وغیرہ اس کی طبعی صفات کو پر میشور بھی نہیں بدل سکتا۔(ستیارتھ صفحہ ۲۸ باب ۸ دفعہ ۱۴) جہاں جیو اور پر کرتی کے صفات دیئے گئے ہیں وہاں مادہ سے تعلق پیدا کرنے کا حق نہیں یا طریق تعلق پیدا کرنے کا بتاؤ۔دلیل نمبر ۱۲:۔ستیار تھے۔جس مادہ سے روح بنائی جاوے وہ آخر ختم ہو جائے گا۔دلیل نمبر ۱۳:۔أَمْ خَلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْ أَمْ هُمُ الْخَلِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَا يُوقِنُونَ (الطور : ۳۷،۳۲) یعنی منکرین حدوث روح و مادہ کہتے ہیں کہ روحیں پیدا نہیں ہوئیں۔(۱) کیا وہ بغیر علل کے خود بخود ہیں؟ اور ظاہر ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ اس سے ترجیح بلا مرجح لازم آتی ہے جو محال ہے (۲) دوسری شق یہ ہو سکتی تھی کہ خود علت ہوں لیکن اگر ایسا ہو تو اس سے تقدم الشيء على نفسہ لازم آتا ہے جو محال ہے۔(۳) جوعلت العلل ہوں اور آسمانوں اور زمینوں کے مالک ہوں تو اس سے تعدد لازم آتا ہے جو محال ہے۔علاوہ ازیں خالق مخلوق کا محتاج نہیں۔مگر ہم زمین و آسمان کے محتاج ہیں۔اگر یہ ہماری مخلوق ہوتے تو ہم ان کے محتاج نہ ہوتے۔دلیل نمبر ١٤ يَنتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (بنی اسرائیل: ۸۲) آریہ لوگ جو حدوث روح و مادہ کے منکر ہیں کسی زمانہ میں سوال کریں گے کہ روح کیا چیز ہے۔آیا حادث ہے یا قدیم ہے۔جواب میں کہہ دے کہ یہ میرے رب ط