مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 859
859 جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امرتسر میں مسافر تھے۔اس لیے بموجب شریعت آپ پر روزہ رکھنا فرض نہ تھا۔ملاحظہ ہو:۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ فَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ آخر “ (البقرة: ۱۸۵) که بیمار اور مسافر بجائے رمضان میں روزہ رکھنے کے بعد میں روزہ رکھ کر گنتی پوری کرے۔حدیث:۔حدیث شریف میں ہے:۔الف "إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَ شَطْرَ الصَّلوةِ۔“ ( مسند امام احمد بن حنبل حدیث انس بن مالک نمبر ۱۸۵۶۸۔ابو داؤد کتاب الصيام باب من اختار الفطر طبع نول کشور صفحه ۲۶۹) یعنی اللہ تعالیٰ نے مسافر پر سے روزے اور نصف نماز کا حکم اٹھا دیا ہے۔ب - صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفْرِ كَالْمُفْطَرِ فِي الْحَضَرِ۔“ (ابن ماجه كتاب الصيام باب ما جاء في الافطار في السفر۔جامع الصغير للسيوطى باب الصاد جلد ۲ مطبوعہ مصر ) ترجمہ:۔رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے والا مسافر ویسا ہی ہے۔جیسا حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔نوٹ:۔حضرت امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔66 ج عَلَيْكُمُ بِرُخُصَةِ اللهِ الَّذِى رَخَّصَ لَكُمْ۔» (مسلم کتاب الصيام باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان) یعنی تم پر خدا کی دی ہوئی رخصتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔د۔لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ۔“ (مسلم کتاب الصيام باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية۔۔۔۔۔۔الخ و بخاری کتاب الصيام باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لمن ظلل عليه الخ وتجريد بخاری متر حجم اردو شائع کردہ مولوی فیروز الدین اینڈ سنز ۱۳۴۱ھ جلدا صفحه ۳۷۳ و صفحه ۶۰۰) یعنی سفر کی حالت میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔هـ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ