مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 49
49 تمسخر میگویند که بوقت زرد گامئے زنان آواز ہلہلا مے خیز د۔وقتیکه عضو مردمثل گنجشک در اندام زن می رود - زن آنرا در جسم خود می خورد و انزال میکند و در آن وقت آواز گلگلامی خیزد و دوشیزگان به انگشت ھائے خود صورت عضو مرد نمایند و میگویند که روزن حشفہ با روئے تو مشابہت دارد یجر وید ادھیائ ۲۳ منتر ۳۲۔رگ وید آدی بھاش بھوم کا مترجم اردو صفحه ۱۸۹ و بندی صفحه ۳۵۱) اندام زن را دست کشیده فراخ بکند تا که آن کشاده شود 66 یجر ویدا دھیائے ۲۳ منتر ۳۶ بجوم کا اُردو صفحہ ۱۹۰) قدامت روح و ماده آریوں کے دلائل کی تردید دلیل اوّل: خدا قدیم سے ہے اور اس کی صفات بھی قدیم سے ہیں اور منجملہ اس کی صفات کے مالک کی صفت بھی ہے اور مالک بغیر مملوک کے نہیں پایا جاتا۔پس ساتھ اس کا کوئی مملوک قدیم سے ہونا ضروری ہے اور وہ روح و مادہ ہے۔جواب: ہم بھی مانتے ہیں کہ وہ قدیم سے مالک اور خالق ہے مگر مملوک کو روح و مادہ میں مقید کرنا کوئی عقلمندی ہے۔ہم بھی قدامت نوعی کے قائل ہیں نہ قدامت شخصی کے یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی قدیم سے چلی آتی ہے اور خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا تعطل ایک وقت میں ہم نہیں مانتے۔یہ دلیل آریوں کی بعینہ عیسائیوں کی اس دلیل جیسی ہے جو وہ تثلیث کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں کہ وجود معلولات متعدده علل متعددہ کو چاہتا ہے۔پس علل کی کثرت ماننی پڑتی ہے پس تثلیث ثابت ( زیادہ عمل کیوں نہیں؟ صرف تین کیوں؟ اسی طرح آریہ لوگ بھی خدا کی صفت مالک“ ثابت کرنے کے لئے روح و مادہ کو پیش کرتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں روح و مادہ کے بغیر اور بھی اشیاء ہوسکتی ہیں۔دلیل دوم:۔ہمارا مشاہدہ بتا تا ہے کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علت مادی ضرور ہوتی ہے پس روح و مادہ کی علت کیا ہے؟ جواب نمبر :۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہر چیز کی منع کے لئے آلات ضروری ہیں مگر تم خود پر میشور کو (دیکھورگ وید آدمی بھومکا صفحه ۹،۶) آلات کے بغیر کام کرنے والا مانتے ہو