مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 853
853 ب۔خود سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۵ روایت نمبر ۴۷۷ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود غیر محرم عورتوں سے لمس سے پر ہیز فرماتے تھے۔پس ضروری ہے کہ مباحثات میں استدلال کی بنیاد صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خلفاء کی تحریرات پر رکھی جائے نہ کہ روایات پر۔۔جہاں تک شریعت اسلامی کی تعلیم کا سوال ہے قرآن مجید نے ایسے مردوں یا عورتوں کو جو غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ » ( یعنی شہوانی جذبات سے خالی ) ہوں۔مثلا بوڑھے اور بوڑھیاں یا خدا کے صالح اور پاک بندے، ایک دوسرے سے پردہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔چنانچہ (الف) قرآن مجید میں سورة نور آیت:۳۲ رکوع ۴ میں جہاں پردے کے احکام ہیں وہاں أَوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ من الرجال کے الفاظ موجود ہیں جن کو پردے کے حکم سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔الف۔اس کی تفسیر میں حضرت امام رازی تفسیر کبیر میں تحریر میں فرماتے ہیں:۔اَوْ شُيُوخٌ صُلَحَاءُ إِذَا كَانُوا مَعَهُنَّ غَضُّوا اَبْصَارَهُمْ۔۔وَقَالَ بَعْضُهُمُ الشَّيْخُ وَ سَائِرُ مَنْ لَا شَهْوَةَ لَهُ۔“ تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا - النور :۳۲) یعنی ایسے صالح بوڑھے جو عورتوں کی معیت کے وقت غض بصر کرنے والے ہوں یا تمام بوڑھے اور ایسے تمام لوگ جو شہوت سے پاک ہوں۔ب تفسیر بیضاوی جلد ۲ میں آیت ( النور : ۳۲) کی تفسیر میں لکھا ہے " هم الشيوخ الأهمام“ یعنی اس سے مراد معمر بوڑھے ہیں۔ج تفسیر حسینی میں ہے: ”بے شہوت والے مردوں میں سے یعنی وہ مرد جو کھانا مانگنے گھروں میں آتے ہیں اور عورتوں سے کچھ حاجت ہی نہیں رکھتے یعنی ان سے شہوت کا دغدغہ نہیں جیسے بہت بوڑھا۔“ ( تفسیر حسینی قادری مترجم اردو جلد ۳ زیر آیت النور :۳۲) ۳۔احادیث نبویہ کی روشنی میں : الف - عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكِ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَ كَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاطْعَمَتُهُ وَ جَعَلَتْ تَفْلِى رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، " (الادب المفرد باب هَلْ يَفْلِيُّ اَحَدٌ رَأْسَ غَيْرِهِ)