مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 841
841 ڈائری ہے۔اور ڈائری حضرت مسیح موعود کی تحریر کے بالمقابل اور خلاف ہونے کی صورت میں حجت نہیں۔پس اگر مراق کے لفظ سے مراد مالیخولیا ہے تو یہ حضرت کی تحریرات کے سراسر خلاف ہے۔لہذا قابل قبول نہیں۔حضرت نے جب صدہا مرتبہ اسی بیماری کا نام اپنی تحریرات میں ”دوران سر“ تحریر فرمایا ہے اور ایک جگہ بھی ” مراق نہیں لکھا تو ڈائری اس کے خلاف پیش نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی خبیث مرض دامنگیر ہو جائے جیسا کہ جذام اور جنون اور اندھا ہونا اور مرگی۔تو اس سے یہ لوگ نتیجہ نکالیں گے کہ اس پر غضب الہی ہو گیا اس لئے پہلے سے اُس نے مجھے براہین احمدیہ میں بشارت دی کہ ہر یک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرونگا۔“ اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۹ حاشیه ) ۴۔الزامی جواب تم لوگ ہمیشہ خدا کے نبیوں کے متعلق ایسی ایسی باتیں گھڑتے ہی رہتے ہو جس سے انہیں خلل دماغ کا مریض تسلیم کرنا پڑے۔حضرت مرزا صاحب کے تو تم دشمن ہو مگر تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی لحاظ نہیں کیا۔یہاں تک کہ آپ کے متعلق لکھ دیا کہ آپ پر جادو کا اثر ہو گیا اور آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ آپ سمجھتے تھے کہ میں نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ آپ نے نہ کیا ہوتا تھا۔( گویا نعوذ باللہ حواس قائم نہ رہے تھے )۔چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلَهُ۔66 (بخاری کتاب بدء الخلق باب صفة ابليس وجنوده - تجرید بخاری از علامه حسین بن مبارک زبیدی ۹۰۰ ھ فیروز الدین اینڈ سنز لاہور ) ترجمه از تجرید بخاری:۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ (ایک مرتبہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ( اس سے ) آپ کو خیال ہوتا کہ ایک کام کیا ہے حالانکہ آپ نے اس کو کیا نہ ہوتا۔“ پھر با وجود ان روایات کے حضرت مسیح موعود پر اعتراض کرو تو معذور ہو کیونکہ یرقان کے