مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 812
812 ۳۔احمدی بھائیوں نے جس خلوص۔جس ایثار۔جس خوشی اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔( زمیندار ۱۸ اپریل ۱۹۲۳ء) ۴۔جماعت احمدیہ نے خصوصیت کے ساتھ آریہ خیالات پر بہت بڑی ضرب لگائی ہے اور جماعت احمدیہ جس ایثار اور درد سے تبلیغ اور اشاعت اسلام کی کوشش کرتی ہے وہ اس زمانہ میں دوسری جماعتوں میں نظر نہیں آتی۔“ ( اخبار مشرق ۲۵ مارچ ۱۹۲۳ء) ۵۔اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جماعت سے مرعوب نہیں ہے اور خالص اسلامی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔( اخبار مشرق گورکھ پور ۲ ستمبر ۱۹۲۷ء)۔گھر بیٹھ کر احمدیوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے، لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان اور امریکہ یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء و دیو بند فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ بھی تبلیغ واشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں۔کیا ہندوستان میں ایسے متمول مسلمان نہیں ہیں جو چاہیں تو بلا دقت ایک ایک مشن کا خرچ اس طرح سے دے سکتے ہیں۔یہ سب کچھ ہے، لیکن افسوس کہ عزیمت کا فقدان ہے۔فضول جھگڑوں میں وقت ضائع کرنا اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا آج کے مسلمانوں کا شعار ہو چکا ہے۔“ ( زمیندارے ادسمبر ۱۹۲۷ء) ے۔جناب مولانا عبد الحلیم صاحب شر رفرماتے ہیں:۔احمدی مسلک شریعت محمدیہ کو اسی قوت اور شان سے قائم رکھ کر اس کی مزید تبلیغ واشاعت کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ بابیت اسلام کے مٹانے کو آئی ہے اور احمدیت اسلام کو قوت دینے کے لئے۔اور اسی کی برکت ہے کہ باوجود چند اختلافات کے احمدی فرقہ اسلام کی کچی اور پر جوش خدمت ادا کرتے ہیں جو دوسرے مسلمان نہیں کرتے۔“ ( رسالہ دلگد از بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء)۔جماعت احمدیہ کے اخلاق پر الزام بعض لوگ شہادۃ القرآن کے حوالہ سے کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کی بہت مذمت کی ہے۔پس آپ کے آنے کا اثر کیا ہوا؟